۲۸ العرب ال فروری ۱۹۹۶
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۸
ویڈیو ٹیپ میں نے دیکھا ۔ اس کے مطابق ، مجلس میں انھوں نے کہا کہ کافروں کے ساتھ ہمارا تعلق صرف قتل اور جنگ کا ہے ۔ ایک مسیحی نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا شیخ ، آپ کیوں صرف قتال کی آیتیں قرآن سے لیتے ہیں اور عفو اور نرمی اور محبت کی آیتوں کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ شیخ عمر عبد الرحمن تردید میں پڑ گئے اور کہا کہ کافروں کے ساتھ معاملہ کے لئے ہمارا طریقہ یہی ہے : قال الشيخ عمر عبد الرحمن : علاقاتنا مع الكافرين القتل وغير هامن اساليب العنف - فقام رجل مسيحي وقال يا شيخ انا ممن تعدونهم كافرين ولكن يا شيخ ، لما تذهب الى آيات القتال وتعرض عن آيات العفو والتسامح والحب - فارتبك الشيخ وقال . هذا منهجنا في التعامل مع الكافرين ایک مجلس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم دانشور اس اعلان میں مشغول ہیں کہ موجودہ زمانہ ایک اسلام دشمن زمانہ ہے ۔ امریکہ اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے ، اسی لئے وہ اسرائیل کی سر پرستی کر رہا ہے ۔ برطانیہ اسلام کا پشتینی دشمن ہے ، اسی لئے وہ سلمان رشدی کو پناہ دئے ہوئے ہے ۔ مگر عین اسی وقت مسلمان بہت بڑی تعداد میں ان ملکوں میں آکر آرام کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔ چنانچہ امریکہ میں چھ ملین مسلمان آباد ہیں اور برطانیہ میں دو ملین مسلمان ۔
ذاتی معاملہ اور ملی معاملہ میں یہ فرق کیوں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسلمان اپنی ذات کے لئے مواقع کو دیکھتے ہیں اور اسلام کے لئے مسائل کو ۔ ذات کے معاملہ میں وہ مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو کی پالیسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں اور جب اسلام کا معاملہ ہو تو فوراً اُمَسائل کو لے کر دوڑنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اپنی ذات کے معاملہ میں وہ مسٹر نو پر البم بنے ہوئے ہیں اور اسلام کا معاملہ ہو تو وہ فوراً مسٹر پر البم بن جاتے ہیں ۔ مسلمانوں کا یہی تضاد موجودہ زمانہ میں تمام ملی مصیبتوں کا اصل سبب ہے ۔ ذات کے معاملہ میں انھوں نے فطرت کے اصول کو اختیار کیا اس لئے ذات کے معاملہ میں وہ کامیاب ہیں۔ اسلام کے معاملہ میں وہ فطرت کے اصول کو اختیار نہ کر سکے اس لئے انفرادی ترقی کے باوجود بحیثیت ملت انھیں ترقی حاصل نہ ہوسکی ۔
۲۸ العرب ال فروری ۱۹۹۶
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues