Al-Risala · February 1996 · page 27

Minorities in India and the national mainstream.

الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۷

کے مکان میں ٹھہرا ہوا تھا۔ اچانک ایک روز صبح کو محسوس ہوا کہ پورا مضمون بیک وقت ذہن میں اتر آیا ہے۔ میں قلم کاغذلے کر بیٹھا اور اسی وقت اس کو لکھ ڈالا۔ یہ مضمون برمنگھم میں ٣٠ ستمبر ١٩٩٣ کی شام کو مکمل ہوا۔ یہ مقالہ الرسالة اردو اور انگریزی میں شائع ہو چکا ہے۔ احمدیہ موومنٹ (قائم شدہ ۱۸۸۹) کا ایک انگریزی ماہنامہ لندن سے نکلتا ہے۔ اس کا نام ہے: (The Review of Religions) اس ماہنامہ کے شمارہ جولائی ۱۹۹۳ میں پا دری جوناتھن ڈریپر (Rev. Dr. Jonathan Draper) کی ایک تقریر چھپی تھی جو انہوں نے لندن مسجد (London Mosque) میں یکم مئی ۱۹۹۳ کو کی تھی۔

اس تقریر میں انھوں نے کہا کہ کھلا پن (Openness) اینگلیکن ٹریڈیشن کی امتیازی خصوصیت ہے۔ انھوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا کہ آپ لوگ یہاں عیسائیت کے بارہ میں میری تقریر سننے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ اسی طرح میں امید کرتا ہوں کہ آپ میرے چرچ میں آئیں اور ہم کو اسلام کے سمجھنے میں مدد دیں :

But in the same way that you are now spending time learning about Christianity in its various forms, I hope that one day soon some of you will come to my church to help us learn something of Islam. (p. 18)

یہ زمانہ آزدا نہ طور پر سننے اور سنانے کا زمانہ ہے۔ اس کو ہمیں پوری طرح استعمال کرنا چاہئے ۔ اس کی صورت یہ ہے کہ ہم دوسروں کے اجتماعات میں شریک ہو کر سنجیدگی کے ساتھ ان کی بات سنیں ۔ اس طرح تعلق بڑھانے کی صورت میں اپنے آپ مختلف صورتوں میں یہ مواقع نکلیں گے کہ ہم اسلام کی بات دوسروں تک پہنچا سکیں۔ حتی کہ دوسرے لوگ خود اپنے اجتماعات میں ہمیں بلائیں گے کہ آئے اور ہمیں بتائیے کہ اسلام کیا ہے ۔ جیسا کہ اسی سفر میں میرے ساتھ اٹلی میں پیش آیا۔ مگر اس جدید امکان کو استعمال کرنے کے لئے دو چیزوں کی لازمی ضرورت ہے ۔ صبر اور حکمت ۔

ریاض عبد السلام احمد ایک عرب نوجوان ہیں جو انگلستان میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ خلیجی جنگ کے بعد ۱۹۹۱ میں لندن میں مصر کے شیخ عمر عبد الرحمن آئے۔ ان کا ایک

‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues

Printed page