۲۸ العرب ال فروری ۱۹۹۶
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۰
المركز الثقافی الاسلامی میں اسلام کے بارے میں جاننے کے لئے آتے ہیں۔
آپ دنیا کے جس حصہ میں بھی جائیں ہر جگہ ایک چیز ضرور دکھائی دے گی۔ اور وہ مسلمانوں کے اوپر غیر مسلموں کے ظلم کی داستان ہے۔ برطانیہ میں قیام کے زمانہ میں مجھے ایک کتاب ملی۔ اس میں برما کے مسلمانوں پر مظالم کی داستان بتائی گئی تھی۔ اس کا نام تھا _ مسلمو بورما : حملات آباده - اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ برما کی حکومت وہاں کے مسلمانوں کو فنا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مگر یہ واقعہ کا نصف ثانی ہے۔ اصل یہ ہے کہ برما کے ایک حصہ میں مسلمانوں نے علیحدگی کی تحریک چلائی۔ اس کے نتیجہ میں وہ وہاں معتوب ہو گئے۔ اس سے پہلے وہ برما میں امن کے ساتھ رہ رہے تھے۔ ایک عرب نوجوان نے ایک رپورٹ پڑھنے کے لئے دی۔ اس کا عنوان تھا : بريطانيا - مشکلات المسلمین ۔ اس کے مطابق برطانیہ کا کیس مسلمانوں کے لئے گویا مشکلات کا کیس تھا۔ اس میں برطانی مسلمانوں کی مشکلات کے ذیل میں بغض، سیکولر تعلیمی نظام، نسل پرستی اور تشدد کو شمار کیا گیا تھا اس کے بعد کہا گیا تھا کہ برطانیہ کے مسلمان اگر ان مشکلات کو حل کر لیں تو یہاں اسلام کے لئے عظیم مستقبل ہے ان الاسلام فی بريطانيا سيكون له مستقبل عظیم اذا تمكنوا من حل المشكلات السابقة (صفحه ۴۹۲ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے کہا کہ ان الفاظ میں موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں کی سب سے بڑی غلطی کا راز چھپا ہوا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مستقبل کی تعمیر کا آغاز مشکلات کو ختم کرنے سے ہوتا ہے۔ حالاں کہ مستقبل کی تعمیر کا صحیح آغاز یہ ہے کہ مشکلات کو نظر انداز کر کے کے مواقع کو استعمال کیا جائے: زعماء المسلمين يعتقدون ان بناء المستقبل يبدأ من حل المشاكل . والصحيح ان بناء المستقبل يبدأ من الاعراض عن المشاكل واستغلال الفرص. ۲۹ ستمبر کو فجر کی نماز برمنگھم کی سنٹرل مسجد (مرکزی مسجد ) میں پڑھی۔ اس میں بیک وقت تین ہزار آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اب ایک اور مسجد بنائی جا رہی ہے جس میں پانچ ہزار آدمیوں کے لئے گنجائش ہوگی۔
نمازیوں کی تعداد بہت کم تھی ۔ نماز ختم ہوئی تو چھ آدمی حلقہ بنا کر بیٹھ گئے۔ وہ روزانہ اجتماعی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues