Al-Risala · February 1996 · page 31

۲۸ العرب ال فروری ۱۹۹۶

الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۱

طور پر قرآن پڑھتے ہیں۔ سب کے سب زیادہ عمر کے تھے جن کے بال سفید ہو چکے ہیں۔ یہ غالباً وہ لوگ ہیں جو اپنے بیٹے یا رشتہ داروں کے ساتھ یہاں مقیم ہیں۔ ان میں کوئی بھی نوجوان موجود نہ تھا۔ مجھے بار بیڈوز کے ایک نوجوان کا قصہ یاد ہے جس کا باپ اس کو اپنے ساتھ مسجد میں لے آیا۔ وہ ایک کنارے الٹا رخ کر کے بیٹھ گیا۔ کسی نے سبب پوچھا تو کہا کہ : me not مسجد میں مذکورہ منظر دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کہ کچھ بوڑھے اور ریٹائرڈ لوگ تو قرآن میں دلچسپی لے رہے ہوں اور نوجوان نسل کہہ رہی ہو کہ: یہ میرے لئے نہیں۔ نماز کے بعد ایک مجلس میں میں نے کہا کہ فجر کی نماز کے بارہ میں ایک بڑی عجیب حدیث ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ من صلی الصبح فھو فی ذمۃ اللہ (جس نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ خدا کی ذمہ داری میں آگیا)۔ گویا فجر کی نماز اللہ کی طرف سے حفاظت کی گارنٹی ہے۔ پھر میں نے کہا کہ یہ کوئی پر اسرار بات نہیں بلکہ ایک ایسی بات ہے جو غور و فکر سے سمجھ میں آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز آدمی کے اندر وہ صفات پیدا کرتی ہے جس کے بعد آدمی لوگوں کی دست برد سے محفوظ ہو جائے۔ مثلاً نماز کی چند باتوں کو لیجئے ۔ آپ بستر سے اٹھ کر سب سے پہلے وضو کرتے ہیں۔ وضو گویا ایک علامتی فعل کے ذریعہ اس بات کا عزم ہے کہ آپ اخلاقی اور روحانی اعتبار سے پاک رہیں گے۔ پھر نماز میں بار بار اللہ اکبر کہتے ہیں۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ آپ اللہ کی بڑائی کے احساس میں جئیں گے اور تواضع کی روش اختیار کریں گے۔ پھر آپ ہر رکعت میں الحمد للہ رب العالمین کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہر حال میں اللہ کا شکر کریں گے۔ جو بھی اللہ نے دیا ہے اس پر قانع رہیں گے۔ آخر میں آپ دونوں طرف رخ کر کے کہتے ہیں کہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ گویا کہ آپ اہل عالم کو یہ بتا رہے ہیں کہ ان کے لئے آپ کے دل میں صرف رحمت اور سلامتی کا جذبہ ہوگا۔

صبح کی نماز میں جو لوگ اس قسم کے اخلاق کی تربیت پا کر نکلیں ان کا یہ اعلیٰ انسانی اخلاق خود ہی ان کی محبوبیت اور حفاظت کی ضمانت بن جائے گا۔

برمنگھم میں میں اپنی رہائش گاہ کے حمام میں گیا تو وہاں جو صابن تھا اس کا نام عنبر تھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا ، الصابون الحلال ، خال من الدهن الحيواني :

‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues

Printed page