لیڈری نے تباہ کیا
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۶
خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۰۵
آل انڈیا ریڈیو (شعبہ ہندی) نئی دہلی کے نمائندہ مسٹر آر پی شری دھر نے ۲۱ اگست ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں جو نفرت اور کڑہن ہے کیا مذہبی تعلیم اس کی ذمہ دار ہے۔ اس کے جواب میں کہا گیا کہ ہرگز نہیں، اس کی ذمہ داری صرف اس سطحی قسم کی سیاست پر ہے جو آزادی کے بعد ہمارے یہاں چل پڑی۔
ساون کرپال روحانی مشن کے تحت کرپال آشرم (دہلی) میں ۱۴-۲۱ ستمبر ۱۹۹۵ کو سسٹمز رم پر ایک گلوبل کانفرنس ہوئی۔ اس کی دعوت پر ۲۰ ستمبر کو صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور روحانیت کے موضوع پر ایک تقریر کی۔
ایک سفر کے ذیل میں صدر اسلامی مرکز نے ۲۳-۲۴ ستمبر ۱۹۹۵ کو بمبئی میں قیام کیا۔ وہاں مختلف لوگوں سے ملاقات اور گفت گو ہوئی۔ ایک اسٹوڈیو نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کی ایک تقریر کی ویڈیو ریکارڈنگ کی۔ اس تقریر کا موضوع " اسلامی اتحاد " تھا۔ نورا تری وکھیان مالاکی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے برہان پور برہان(پور(مدھیہ پردیش) کا سفر کیا۔ وہاں ۲۵ ستمبر ۱۹۹۵ کو ایک جلسہ عام سے خطاب کیا۔ اس میں بڑی تعداد میں ہندو اور مسلمان موجود تھے۔ خطاب کا موضوع تھا: ہندو مسلم اتحاد کی اہمیت اور مشترک کلچر۔ خطاب کے علاوہ دونوں فرقہ کے لوگوں سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔
امریکی میگزین ٹائم کے بیورو چیف مسٹر تھامسن (Dick Thompson) نے ۵ نومبر ۱۹۹۵ کو نئی دہلی میں صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوال وجواب کا خلاصہ مقابل کے صفحہ پر دیا جا رہا ہے۔
بی اے جی فلمس لمیٹڈ (نئی دہلی) کی ویڈیو ٹیم ۲۹ ستمبر ۱۹۹۵ کو مرکز میں آئی اور زی ٹی وی کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں کی سیاست سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ کچھ نام نہاد لیڈر مسلمانوں کو بھڑکا کر ٹکراؤ کے راستہ پر ڈالتے تھے۔ مگر اب مسلمان ان لیڈروں کو سمجھ گئے ہیں۔ انھوں نے جان لیا ہے کہ ترقی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues