لیڈری نے تباہ کیا
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۵
اس دوہرا ناکامی کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے ان کا صبر کی صفت سے خالی ہونا۔ قرآن میں ہے کہ ــــ اور ہم نے ان میں امام (قائد) بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے جب کہ انھوں نے صبر کیا (السجدہ ۲۴)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قیادت کا کام وہی شخص کر سکتا ہے جس کے اندر صبر کی صفت ہو ۔ صبر و تحمل کے بغیر کوئی شخص قوموں کا رہنما نہیں بن سکتا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ قائد تنہائی میں نہیں ہوتا۔ اس کو لوگوں کے درمیان رہنا پڑتا ہے۔ اس کو موافق اور مخالف دونوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ اس کا معاملہ ان لوگوں سے بھی پڑتا ہے جو اس کی تعریف کریں اور ان سے بھی جو اس پر تنقید کریں۔ وہ کبھی تلخ حالات سے گزرتا ہے اور کبھی نرم حالات سے۔ کبھی کوئی شخص اس کو سہارا دیتا ہے اور کبھی کوئی اس کو دھکا دے کر گرانے کی کوشش کرتا ہے۔
ان مختلف احوال سے نباہ کرنے کا واحد ذریعہ صبر ہے۔ اگر قائد کے اندر صبر کی صفت نہ ہو تو وہ بار بار بھڑک اٹھے گا۔ حقیقت پسندانہ انداز سے رائے قائم کرنا اس کے لئے ممکن نہ ہو گا۔ اس کی منصوبہ بندی اس کی عقل کے بجائے اس کے جذبات کے تابع ہو جائے گی۔ وہ اپنی بے صبری کے نتیجہ میں غیر ضروری چھلانگ لگائے گا اور قیمتی مواقع کو برباد کر دے گا۔ بدقسمتی سے یہی موجودہ زمانہ کے تقریبا تمام لیڈروں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ مگر اس طرح کی چھلانگوں سے قائد تو بنتے ہیں مگر قوم نہیں بنتی۔
زندگی مسلسل چیلنج کا نام ہے۔ زندگی کبھی مسائل سے خالی نہیں ہو سکتی۔ اس لئے جب بھی کوئی لیڈر اٹھتا ہے، اس وقت قوم کسی نہ کسی مسئلہ سے دوچار ہوتی ہے کسی نہ کسی معاملہ پر ناراضگی کا احساس اس کے اندر موجود رہتا ہے۔ اب ایک لیڈر وہ ہے جو قوم کی ناراضگی کو لے کر تقریریں شروع کر دے اور لوگوں کو بھڑکا کر انھیں مفروضہ دشمن کے خلاف ٹکرا دے۔
دوسرا لیڈر وہ ہے جو حالات کا گہرا جائزہ لے۔ وہ مسائل کی نوعیت کو سمجھے اور قوم کی طاقت کا اندازہ لگائے۔ اور پھر منصوبہ بند انداز میں مسئلہ کے حل کی تدبیر کرے ۔ پہلا شخص مسئلہ کے نام پر لیڈری کرنے والا ہے، اور دوسرا شخص مسئلہ کو حل کرنے والا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues