We are number 4 in the sequence.
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۹
نام ایک خط روانہ کیا تھا۔ یہ خط ۵ نومبر ۱۹۹۵ کو لکھا گیا تھا۔ ذیل میں اس خط کا مضمون نقل کیا جا رہا ہے۔
"حال ہی میں اٹلی گیا تھا۔ ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۵ کو یہاں سے روانہ ہوا اور ۲۸ اکتوبر کو واپسی ہوئی ۔ اس مدت میں روم اور فلارنس وغیرہ میں خطابات اور ملاقاتوں کا موقع ملا۔ ایک موقع پر آپ بہت یاد آئے ۔ اسی یاد کے زیر اثر یہ خط لکھ رہا ہوں۔
فلارنس میں ایک سو چرچ اور مسیحی ادارے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑے چرچ نے اپنے مخصوص ہال میں میری تقریر رکھی تھی۔ اس کا موضوع تھا : اسلام کیا ہے۔ میں نے انگریزی میں تقریر کی۔ جس کا ترجمہ فوری طور پر یونیورسٹی کے ایک پر وفیسر نے اٹالین زبان میں کیا۔ تقریر کے بعد کافی دیر تک سوال وجواب کا پروگرام رہا۔
اس پروگرام کے بعد ایک تعلیم یافتہ عیسائی نے کہا کہ اب تک ہم اسلام کے بارہ میں اتنا ہی جانتے تھے جتنا ہم نے ٹی وی میں دیکھا اور سنا تھا ۔ آج پہلی بار معلوم ہوا کہ اسلام کیا ہے۔ ایک اور عیسائی نوجوان نے کہا کہ آپ کی تقریر سن کر میرے اندر یہ شوق ابھرا کہ میں اسلام کا مطالعہ کروں۔ اسلام واقعی جاننے کے قابل ہے۔
یہ تجربات کوئی سادہ تجربات نہیں ہیں۔ وہ آپ کو نہایت اعلیٰ روحانی کیفیات سے آشنا کرتے ہیں۔ ان تجربات کے دوران آدمی یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ خدا کے بندوں کے سامنے خدا کی نمائندگی کر رہا ہے، وہ من انصاری الی اللہ (الصف ۱۴) کی پکار کا جواب بن رہا ہے۔ یہ بلا شبہ تھرل کا ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس موقع پر آپ کی یا در اس طرح آئی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے نہایت اعلیٰ صلاحیت دی ہے۔ آپ اس اعلیٰ روحانی کیفیت کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ میرے دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس عظیم تر دولت کے کمانے کے لئے منتخب کرلے کیوں کہ اس سے بڑی دولت اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues