Al-Risala · February 1997 · page 48

We are number 4 in the sequence.

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۸

طور پر گھاٹے پر چل رہی ہیں۔ مگر جو کمپنیاں فیڈر روٹ پر اپنے جہاز چلاتی ہیں وہ نفع پر چل رہی ہیں۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ ٹرنک روٹ پر ان کا مقابلہ انڈین ایئرلائنز سے ہے۔ کہ فیڈر روٹ پر اس قسم کا مقابلہ نہیں۔ اگر ہے تو باہمی طور پر پرائیویٹ کمپنیوں سے ہے نہ کہ انڈین ایئر لائنز سے۔

دہلی اور روم میں گھڑی کے لحاظ سے ساڑھے چار گھنٹہ کا فرق تھا۔ دہلی میں جب میں اترا تو یہاں کی گھڑی اس وقت صبح کے ساڑھے پانچ بجے کا وقت بتا رہی تھی۔ جب کہ اس وقت روم کی گھڑیوں میں ایک بجے رات کا وقت تھا۔ اسی طرح دونوں میں موسم کا بھی غیر معمولی فرق تھا۔ ۲۸ اکتوبر کو ہمارا جہاز دس ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کرتا ہوا جب دہلی پہنچا تو یہاں کا ٹمپریچر اس وقت ۳۰ ڈگری تھا۔ جب کہ روم میں اترنے کے وقت جہاز کے اندر اعلان کیا گیا کہ باہر کا درجہ حرارت ۱۰ ڈگری ہے۔

۲۸ اکتوبر ۱۹۹۵ کی صبح کو ساڑھے پانچ بجے میں دہلی ایئر پورٹ پر اترا۔ جہاز میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا جو اب بھی میرا پیچھا کر رہا تھا۔ میرے کیبن میں ایک مسافر تقریباًمیری عمر کا تھا۔ وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر باتھ روم میں گیا۔ کچھ دیر کے بعد اچانک کوئی بھاری چیز گرنے کی آواز آئی۔ دیکھا تو وہ آدمی بے ہوش ہو کر گر پڑا تھا۔ جہاز کا عملہ اور ایک ڈاکٹر دیر تک اس کو دوبارہ ہوش میں لانے کی کوشش کرتے رہے۔ اس کو ایک سلنڈر کے ذریعہ مزید آکسیجن دیا گیا۔ آخر کار دہلی کے قریب پہنچ کر وہ ہوش میں آ گیا۔ تاہم دہلی ایئر پورٹ پر اس کو اسٹریچر کے ذریعہ اتارا گیا اور غالباً سیدھے اسپتال لے جایا گیا۔

میں نے سوچا کہ اس مسافر کا دنیا کا سفر ممکن ہے کہ آخرت کا سفر بن گیا ہو۔ یہی امکان ہر ایک کے لئے ہے۔ شاعر کی زبان میں یہاں ”آج وہ کل ہماری باری ہے“ کا معاملہ ہے۔ اگر چہ ایسے کسی واقعہ کو دیکھ کر لوگ اس کو دوسرے کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت کم ہیں جو ایسے واقعات میں اپنی تصویر دیکھیں، جو آنے والے دن کو پیشگی طور پر خود اپنے لئے جان لیں۔

سفر سے واپسی کے بعد میں نے محترم جناب حبیب بھائی صاحب (حیدر آباد) کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page