بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۴
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم (شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے) یہ آیت قرآن میں ایک سو چودہ بار آئی ہے۔ اس تکرار سے اس کی خصوصی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کوئی بھی دوسری آیت نہیں جو قرآن میں اتنی زیادہ بار آئی ہو۔ بندے کے لیے کسی کام کا سب سے بہتر آغاز یہ ہے کہ وہ اپنے کام کو اپنے رب کے نام سے شروع کرے، وہ ہستی جو تمام رحمتوں کا خزانہ ہے۔ اس کے نام سے کسی کام کا آغاز کرنا گویا اس سے یہ دعا کرنا ہے کہ تو اپنی بے پایاں رحمتوں کے ساتھ میری مدد پر آجا۔ یہ بندے کی طرف سے اپنی بندگی کا اعتراف ہے اور اسی کے ساتھ اس کی کامیابی کی الہی ضمانت بھی۔
"میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں" کا مطلب یہ ہے کہ میں اللہ کی یاد سے اپنے کام کا آغاز کر رہا ہوں، یہ کلمہ اپنی روح کے اعتبار سے اس حقیقت کا حامل ہے کہ : (السعی منی والا تمام من اللہ) اس طرح بندہ ہر کام کے موقع پر یہ کلمہ ادا کر کے اس حقیقت کو تازہ کرتا ہے کہ وہ کسی کام کو شروع کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ کام کو اس کے آخری تکمیل تک پہنچانے کے لیے جن اسباب کی ضرورت ہے وہ سب اللہ کے اختیار میں ہیں، بندے کے اختیار میں آغاز ہے اور اللہ کے اختیار میں تکمیل ۔
اس اعتبار سے یہ کلمہ در اصل ایک دعا ہے ۔ بندہ اپنے ہر کام کے آغاز میں اس دعائیہ کلمہ کو ادا کر کے خدا سے یہ التجا کرتا ہے کہ اے میرے رب میں نے تیرے اعتماد پر ایک کام شروع کر دیا ہے۔ تو میرے اعتماد کی تکمیل فرما اور میرے حق میں وہ اسباب مہیا فرما دے جس کے ذریعہ میں اپنے اس کام کو مکمل کر سکوں۔ اللہ کے ساتھ اس کی رحمن و رحیم کی صفت کا ذکر کرنا گویا یہ کہنا ہے کہ اے اللہ جب تو رحمتوں اور برکتوں والا ہے تو میں تجھ سے یہی امید کرتا ہوں کہ تو ضرور میری دعا قبول فرمائے گا۔
جو کام اللہ کے نام سے شروع نہ کیا جائے وہ گویا صحیح آغاز سے محروم تھا اور جو کام صحیح آغاز سے محروم ہو وہ کبھی صحیح تکمیل تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues