Al-Risala · March 1997 · page 5

حکیمانہ جواب

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۵

حکیمانہ جواب

امام ابن جوزی (م ۵۹۷ھ) کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ ایک سنی اور ایک شیعہ میں جھگڑا ہوا۔ سنی کا دعویٰ تھا کہ حضرت ابو بکر زیادہ افضل تھے۔ شیعہ حضرت علیٰ کی افضلیت ثابت کر رہا تھا۔ نزاع بڑھی تو یہ طے ہوا کہ اس معاملہ میں ابن جوزی کو حکم بنایا جائے۔ ایک دن جب کہ ابن جوزی منبر پر تقریر کر رہے تھے اس وقت فریقین میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور ان سے پوچھا کہ : من افضل الصحابة) (یعنی صحابہ میں افضل کون ہے)

ابن جوزی نے جواب دیتے ہوئے کہا : افضل صحابة رسول الله الذی بنته فی بیته (یعنی اصحاب رسول میں زیادہ افضلیت والا وہ ہے کہ جس کی بیٹی اس کے گھر میں تھی) امام ابن جوزی نے یہ جواب دیا اور اس کے فوراً بعد مسجد سے باہر چلے گئے تا کہ اس جملہ کی تشریح نہ کرنی پڑے۔ ابن جوزی کا یہ جواب ایسا تھا کہ دونوں فریق مطمئن ہو گئے کہ فیصلہ اس کے عقیدہ کے مطابق ہوا یعنی سنی یہ سمجھا کہ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ افضل وہ ہے جس کی بیٹی رسول اللہ کے گھر میں تھی۔ چوں کہ حضرت ابو بکر کی صاحبزادی حضرت عائشہ رسول اللہ کے نکاح میں تھیں اس لیے حضرت ابو بکر افضل ہیں۔ دوسری طرف شیعہ نے مذکورہ جملہ کا یہ مطلب لیا کہ زیادہ افضل وہ ہے جس کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور چوں کہ آپ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ حضرت علی کے نکاح میں تھیں اس لیے حضرت علی زیادہ افضل ہوئے۔

یہ جواب کا وہی طریقہ ہے جس کو ٹالنے والا جواب (evasive reply) کہا جاتا ہے۔ اس وقت اگر امام ابن جوزی ایسا جواب دیتے جو واضح طور پر کسی ایک فریق کے حق میں ہوتا تو دوسرا فریق غصہ ہو کر لڑنے لگتا اور پھر شیعہ سنی فساد کی نوبت آ جاتی۔ مگر امام ابن جوزی نے مذکورہ قسم کا ذومعنی جواب دے کر مسلمانوں کو آپس کے جنگ و جدل سے بچا لیا۔

اسی کا نام حکمت کلام ہے۔ کبھی آدمی کو صاف اور واضح جواب دینا پڑتا ہے اور کبھی اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ مبہم انداز میں بات کو بیان کیا جائے ۔ حکیم وہ ہے جو ان دونوں کے فرق کو سمجھے اور اپنے کلام میں اس کی رعایت کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page