Al-Risala · January 1997 · page 11

دو فرحتیں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۱۱

دو فرحتیں

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : للصائم فرحتان يفرحهما- اذا افطر فرح و اذا لقي ربه فرح بصومه۔ یعنی روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوگا۔ جب وہ افطار کرتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اور جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزہ کے انعام پر خوش ہوگا (فتح الباری ۴/ ۱۴۱ ، صحیح مسلم بشرح النووی ۸/ ۳۱ )

روزہ دار دن بھر بھوکا پیاسا رہتا ہے۔ اس کے بعد شام کو جب وہ افطار کرتا ہے اور کھانا اور پانی اس کے جسم میں داخل ہوتا ہے تو قدرتی طور پر اس کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔ پھر موت کے بعد آخرت میں جب یہ روزہ دار اللہ سے ملے گا اور اللہ اس کی روزہ داری کے بدلے میں اس کو جنت میں داخل کرے گا تو اس وقت مزید اضافہ کے ساتھ اس کو کامل خوشی حاصل ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ روزہ دنیا کی زندگی کی علامت ہے اور افطار آخرت کی زندگی کی علامت۔ دنیا میں مومن کو ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا ہے اور قربانیوں کو برداشت کرنا ہے۔ لذتوں سے محروم ہو کر اس کو خدا کی اطاعت کرنا ہے۔ مگر آخرت کا معاملہ اس سے مختلف ہوگا۔ وہاں اس کے لئے خوشیاں ہی خوشیاں ہیں اور وہاں اس کے لئے آرام ہی آرام۔ اس طرح روزہ علامتی طور پر مومن کی دنیا کا تعارف ہے، اور افطار علامتی طور پر مومن کی آخرت کا تعارف۔ دنیا کی زندگی ، مومن کے لئے فاقہ کی زندگی ہے، اور آخرت کی زندگی ، مومن کے لئے اکل و شرب کی زندگی ۔ دنیا میں مومن کے لئے ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں ، اور آخرت میں مومن کے لئے انعام ہی انعام۔

روزہ آدمی کو احساس دلاتا ہے کہ دنیا میں اسے قربانیوں کی حد تک جا کر اپنا فرض ادا کرنا ہے۔ اور افطار کی صورت میں اس کو یہ تجربہ کرایا جاتا ہے کہ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جبکہ اس کا خدا اس طرح کی قدردانی کرے گا کہ اس کو ابدی جنتوں میں داخل کر دے گا جہاں قسم کی لا محدود خوشیاں اور لذتیں بھی ہوں گی ، اور اسی کے ساتھ ان سے بہرہ اندوز ہونے کی مکمل آزادی بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page