ہمدردی کا مہینہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۱۰
ہمدردی کا مہینہ
روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کا مہینہ شہر المواسات ہے۔ (مشکوٰة المصابیح ۱/۱۳) یعنی لوگوں کی مدد کرنے اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی کرنے کا مہینہ۔ یہ روزہ کا وہ پہلو ہے جس کو انسانی پہلو کہا جا سکتا ہے۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کے مہینہ میں بہت زیادہ صدقہ کرتے تھے۔ اس مہینہ میں کوئی بھی سوال کرنے والا آپ کے یہاں سے خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا تھا۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ روزہ کے مہینہ میں جو شخص کسی کو کھلائے تو وہ اس کے لئے مغفرت کا ذریعہ ہوگا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی روزہ دار کو کھلائے گا تو وہ بھی اس روزہ کے ثواب میں شریک ہو جائے گا (۶۲۱)
روزہ کے مہینہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں آدمی بھوک پیاس کا ذاتی تجربہ کرتا ہے۔ یہ تجربہ امیر اور غریب دونوں کو یکساں طور پر ہوتا ہے۔ یہ تجربہ صرف ایک بار وقتی طور پر نہیں ہوتا بلکہ مسلسل ایک مہینہ تک ہر روزہ اس کو خصوصی کورس سے گزارا جاتا ہے۔ اس طرح روزہ ہر آدمی کو یہ تجربہ کراتا ہے کہ انسانی ضرورتیں کیا ہیں۔ وہ بتاتا ہے کہ پیاس کیا ہے اور بھوک کیا چیز ہے۔ جو لوگ عام حالات میں بھوک پیاس کو محسوس نہیں کر پاتے وہ بھی رمضان کے مہینہ میں ذاتی طور پر اس کا تجربہ کر لیتے ہیں۔ اس طرح روزہ ہر آدمی کو ایک سطح پر پہنچا دیتا ہے۔ امیر آدمی بھی کچھ دیر کے لئے اسی حالت پر پہنچ جاتا ہے جس حالت پر ایک غریب آدمی جی رہا تھا۔
اس طرح ہر آدمی کی انسانیت جاگ اٹھتی ہے۔ ہر آدمی دوسروں کے احساس میں شریک ہو جاتا ہے۔ ہر آدمی کے اندر یہ جذبہ ابھر آتا ہے کہ وہ دوسروں کی ضرورت میں ان کے کام آئے۔ وہ بقدر استطاعت دوسروں کی مدد کرے۔ اس طرح روزہ ایک دوسرے کی ہمدردی اور ایک دوسرے کی مدد کا ایک عام جذبہ پیدا کر دیتا ہے جو رمضان کے بعد بھی مہینوں تک باقی رہتا ہے۔ یہاں تک کہ سال بھر پورا ہوکر پھر دوسرا رمضان آ جاتا ہے جو دوبارہ آدمی کے اندر وہی انسانی جذبات ابھار دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues