Al-Risala · March 1997 · page 6

اسلام کے سفیر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۶

اسلام کے سفیر

ام حرام بنت ملحان ایک صحابیہ ہیں۔ ان کا نکاح حضرت عبادہ بن الصامت انصاری سے ہوا۔ انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ بیرونی ملکوں کا سفر کیا۔ اور اب قبرص (Cyprus) میں ان کی قبر ہے۔ ان کی قبر کو وہاں قبر المرأة الصالحہ کہا جاتا ہے (حیات الصحابہ ۵۹۲/۱) حضرت خالد بن الولید کی قبر حمص (شام) میں ہے، حالاں کہ وہ مکہ میں پیدا ہوئے تھے۔

یہی معاملہ بیشتر اصحاب رسول کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت صحابہ کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ لیکن آج اگر آپ مکہ اور مدینہ جائیں تو وہاں آپ کو بہت کم صحابہ کی قبریں ملیں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات عرب سے نکل کر بیرونی ملکوں میں پھیل گئے۔ ان میں اکثر کی وفات ایشیا اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں ہوئی اور وہیں ان کی قبریں بنیں۔ ایسا کیوں ہوا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آخری زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مدینہ کی مسجد میں جمع کیا اور ان سے کہا کہ اللہ نے مجھ کو تمام دنیا کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ تو تم لوگ اختلاف نہ کرو ۔ بلکہ تم ملکوں اور شہروں میں جاؤ اور ہر جگہ کے لوگوں تک میری طرف سے میرا پیغام پہنچادو( فأدُّواعنِّی) سیرت ابن ہشام ۲۷۹/۴ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی تعلیم تھی جس کی بنا پر اصحاب کرام عرب سے نکل کر بیرونی ملکوں میں پھیل گئے۔ باہر کے ملکوں میں جاکر وہ تجارت کرتے تھے یا محنت سے اپنی روزی کماتے تھے اور لوگوں تک اس پیغام کو پہنچاتے تھے جو ان کو پیغمبر آخر الزماں کے ذریعہ ملا تھا اس طرح ہر شخص اسلام کا سفیر بن گیا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام زمین کے چاروں طرف پھیل گیا اور تمام آباد دنیا میں اسلام کے نشانات دکھائی دینے لگے۔

موجودہ زمانہ میں مسلمان معاشی اسباب کے تحت ساری دنیا میں پھیل گئے ہیں۔ اس طرح دوبارہ یہ ممکن ہوگیا ہے کہ وہ ہر جگہ اسلام کے سفیر کا کام انجام دے سکیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو ان کا یہ سفر صرف معاشی سفر نہ رہے گا بلکہ پورے معنوں میں دعوتی سفر بن جائے گا۔ اس طرح اسلام کی عالمی اشاعت پھر اسی طرح ہونے لگے گی جس طرح وہ دور اول میں ہوئی تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page