Al-Risala · March 1997 · page 10

اختلاف

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۱۰

اختلاف

اختلاف ایک پرچہ امتحان ہے۔ کسی سے آپ کا اختلاف پیدا ہو جائے تو سمجھ لیجئے کہ اللہ نے آپ کو ایک نازک آزمائش میں ڈال دیا تاکہ یہ جانے کہ آپ سچے مومن ہیں یا سچے مومن نہیں ہیں۔ اختلاف کو اختلاف کے دائرہ میں رکھنا سچے اہل ایمان کا طریقہ ہے۔ جو لوگ اختلاف کو تخریب کاری کے درجہ تک پہنچا دیں وہ بلاشبہ ایمان و اسلام سے نکل گئے ۔ آدمی جب اختلاف کو اختلاف کے دائرہ میں رکھے تو اس کا امکان ہوتا ہے کہ تبادلہ خیال کے دوران دونوں میں سے کسی کے اوپر سچائی کھل جائے اور اس طرح جو بھٹکے ہوئے مسافر کی مانند تھا وہ دوبارہ صحیح راستہ پر آ جائے۔

مگر جب ایک آدمی اختلاف کو تخریب کاری تک پہنچا دے تو اس کے بعد گمراہی کے گڑھے میں گرنے کے سوا کوئی انجام اس کے لیے باقی نہیں رہتا۔ ایسے آدمی کا دماغ منفی سوچ کا کارخانہ بن جاتا ہے۔ وہ دلیل اور الزام تراشی کے فرق کو سمجھنے کی اہلیت کھودیتا ہے۔ وہ منصفانہ اختلاف کی حد سے گزر کر ظالمانہ اختلاف کے دائرہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہ خدا کی پکڑ کے احساس سے غافل ہو جاتا ہے۔ وہ صرف اپنی انا کورہ نما بنا لیتا ہے۔ اب اس کا مقصد حق کو قائم کرنا نہیں ہوتا بلکہ صرف اپنی ذات کو قائم کرنا اس کا اول و آخر مقصد بن جاتا ہے۔ وہ خدا کی رحمت سے دور ہو کر پوری طرح شیطان کی گرفت میں آ جاتا ہے۔

اختلاف پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ مگر اختلاف کو تخریب کاری بنانا سراسر ظالمانہ فعل ہے۔ جو لوگ اختلاف کو تخریب کاری بنائیں ان کے لیے سخت خطرہ ہے کہ وہ خدا کی شدید پکڑ میں آ جائیں۔ عین ممکن ہے کہ آخرت میں ان سے کہہ دیا جائے کہ آج تم نے دنیا کی زندگی میں شیطان کو اپنا رہ نما بنایا۔ اب آخرت کی خدائی نعمتوں میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔

اختلاف کے وقت عدل پر قائم رہنا آدمی کے لیے جنت کا دروازہ کھولتا ہے۔ اور اختلاف کے وقت عدل و انصاف سے ہٹ جانا آدمی کو جہنم کے دروازے پر پہنچا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page