Al-Risala · March 1997 · page 11

بوسٹر کا رول

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۱۱

بوسٹر کا رول

فردوسی کا شاہنامہ فارسی زبان کا ایک مشہور رزمیہ ہے۔ اس میں ایران کے رستم اور دوسری شخصیتوں کا پر فخر تذکرہ ہے۔ رستم کے سلسلہ میں فردوسی نے کہا کہ یہ میں ہوں جس نے رستم کو رستم بنایا ورنہ وہ ایران کے ایک قصبہ کا ایک معمولی پہلوان تھا : منش کردہ ام رستم پہلواں وگرنہ یلے بود در سیستاں فردوسی نے اپنے شعر میں جو بات ذاتی فخر کے طور پر کہی ہے وہ در حقیقت فطرت کا ایک قانون ہے۔ جس طرح والی بال کے کھیل میں ایک بوسٹر ہوتا ہے اور ایک وہ جو والی مارتا ہے، بو سٹر کا کام ہے بال کو آگے بڑھانا اور والر کاکام ہے اس کو لے کر والی مارنا، اس طرح والی بال کا کھیل جاری رہتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح زندگی کے نظام میں خود خدا کے نقشہ تخلیق کے مطابق ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو بڑھاوا دے اور اس طرح وہ اس کو آگے پہنچا دے۔

یہ اصول اتنا عام ہے کہ پیغمبر تک اس سے مستثنیٰ نہیں۔ مثال کے طور پر حضرت یوسف مصر میں ایک غلام کی حیثیت سے داخل ہوئے پھر وہ جیل میں پہنچا دیے گئے۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ انہیں مصر کی حکومت میں اعلیٰ ترین منصب حاصل ہو گیا۔ ان کی یہ ترقی اللہ کے منصوبہ کے تحت تھی۔ تاہم ظاہری طور پر مصر کے بادشاہ نے ان کے لیے بوسٹر (بڑھانے والا) کا رول ادا کیا۔ یہی بات ہر اس شخص کے سلسلہ میں نظر آتی ہے جس کو کسی حیثیت سے کوئی نمایاں مقام حاصل ہوا۔ اس حیثیت سے مطالعہ کیا جائے تو ہر آدمی کے پیچھے کوئی بوسٹر دکھائی دے گا۔ انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی شخصیت ہو جس کے آگے بڑھنے میں کسی بوسٹر کا دخل شامل نہ ہو۔ اس معاملہ میں بوسٹر کو کسی تعلی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کی وجہ سے فلاں شخص آگے بڑھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بوسٹر اگر غیر جانبدارانہ طور پر غور کرے تو وہ خود بھی پائے گا کہ اس کی اپنی ذات کے معاملہ میں بھی کسی بوسٹر کا ہاتھ کام کر رہا ہے۔ بوسٹر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس نے جو کچھ کیا وہ اس کا ذاتی کارنامہ نہ تھا بلکہ یہ در اصل خدا تھا جس نے اس کو اپنی ایک منشا کی تکمیل کے لیے استعمال کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page