Al-Risala · March 1997 · page 36

Kiran Bedi as the ideal police officer.

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۳۶

میں باہمی نفرت اور تشدد جتنا زیادہ پایا جاتا ہے اتنا کسی بھی دوسرے مسلم ملک میں نہیں۔ اسی بنا پر مسٹر مجید نظامی نے پاکستان کو نا پاکستان کہا ہے (نوائے وقت) مجھ سے کہا گیا تھا کہ آپ ہوٹل کی روم سروس کو ٹیلی فون کر کے اپنا ناشتہ اور کھانا اپنے کمرہ میں منگالیا کریں۔ مگر میں قصد اًڈائننگ ہال میں جا کر کھاتا تھا۔ کیوں کہ اس طرح لوگوں کا مطالعہ کرنے اور ان کی باتیں سننے کا موقع ملتا ہے۔

جب میں لوگوں کو جوش اور انہماک کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو اکثر میں سوچنے لگتا ہوں کہ یہ لوگ آخر کیا باتیں کرتے ہیں۔ کیوں کہ میرے نزدیک تو یہ دنیا چپ ہو جانے کی جگہ ہے نہ کہ بولنے کی جگہ۔ اس دنیا کی ہر چیز آدمی سے کہہ رہی ہے کہ خدا کی عظمتوں کو پہچانو، اپنا احتساب کرو، اپنے حال پر غور کرو کے اپنے مستقبل کا حق کہ بناؤ۔ مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ نہیں سوچنے کی فرصت نہیں۔ وہ صرف ایک چیز جانتے ہیں ـــــــــ بے محابابولتے رہنا۔ ۵ جولائی کی صبح کو ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں کچھ لوگ میرے قریب کی لمبی میز پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک صاحب نے دوسرے سے کہا: ’۲۵ نکال دو، پھر دیکھو کہ کتنا بچا۔ دوسرے نے کہا: دیکھو ان گدھوں کو، میرا پرموشن چار سال سے روک رکھا ہے۔ تیسرے نے کہا: اجی سروس میں کیا رکھا ہے، فلاں کو دیکھو۔ چند سال پہلے ٹھیکہ داری شروع کی تھی۔ آج ماروتی کار میں گھوم رہا ہے۔

یہی حال ۹۹ فیصد لوگوں کا ہے۔ سنجیدگی اور گہرائی آج لوگوں سے اٹھ گئی ہے سطحی باتوں کے سوا کسی اور چیز سے لوگوں کو دلچسپی نہیں۔

مسٹر اجناس انیال منتفلین کی ٹیم سے تعلق رکھتی تھیں۔ شملہ کے راستہ میں مجھ کو چکر آگیا، اور وہاں قیام کے دوران بھی چکر آتا رہا۔ موصوفہ نے میرے علاج اور آرام کا ہر طرح اہتمام کیا۔ وہ برابر میری خبر گیری کرتی رہتی تھیں۔ راشٹر پتی نواس میں ایک کمرہ انھوں نے میرے لئے خاص کرا دیا تھا کہ میں اس میں آرام کروں اور جب جی چاہے، کانفرنس میں آجاؤں۔

میں نے موصوفہ کا شکریہ ادا کیا تو انھوں نے کہا: مجھ کو تو بس آپ آشیرواد دیجیے کہ میں بھی چل سکوں سچائی پر؛ جیسے کہ آپ چل رہے ہیں سچائی پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page