Al-Risala · March 1997 · page 37

Kiran Bedi as the ideal police officer.

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۳۷

شملہ کانفرنس کی میزبانی ہماچل پردیش سرکار نے اپنے ذمہ لی تھی۔ چنانچہ ہماچل پردیش کے گورنر اور چیف منسٹر اور دوسرے سرکاری افراد۔ برابر اس کانفرنس میں ذاتی طور پر شریک رہے۔ ہماچل پردیش (نیز پنجاب اور چنڈی گڑھ) کے گورنر مسٹر سریندر ناتھ کی کرسی میری کرسی سے ملی ہوئی تھی۔ چنانچہ ان سے کافی باتیں ہوئیں۔ انھوں نے بتایا کہ گورنری کی میعاد پوری ہونے کے بعد وہ مذہبیات پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اسلام پر کئی کتابوں کے نام مجھ سے پوچھ کر نوٹ کئے۔ ۷ جولائی کی شام کو انھوں نے گورنر ہاؤس میں نہایت اہتمام کے ساتھ تمام شرکاء، کانفرنس کو ڈنر دیا۔ اس موقع پر انھوں نے اپنے تمام افراد خاندان کا مجھ سے تعارف کرایا۔ سب کے سب بہت خوش نظر آتے تھے۔

عجیب بات ہے کہ جب میں کانفرنس سے فارغ ہو کر دہلی واپس آیا تو یہاں خبر ملی کہ ۹ جولائی کی صبح کو ان کے تمام افراد خاندان (گورنر صاحب کو لے کر دس افراد) ہوائی جہاز کے حادثہ میں ہلاک ہو گئے۔ موصوف اپنی بیوی، لڑکی اور داماد، ان کے دو لڑکے، ایک بیٹا اور اس کی بیوی، اور ان کی دولڑکی کے ساتھ شملہ سے چنڈی گڑھ جا رہے تھے۔ راستہ میں ان کا چھوٹا جہاز پہاڑی سے ٹکرا گیا اور جہاز کے عملہ سمیت تمام کے تمام مسافر ہلاک ہو گئے۔ اس واقعہ کی خبر پاکستانی اخبار نوائے وقت ۱۰۔ جولائی ۱۹۹۴) میں اس سرخی کے ساتھ چھپی: بھارتی پنجاب کا ہندو گورنر خاندان سمیت طیارے کے حادثہ میں مارا گیا۔

پہاڑوں کے اوپر اس وقت گہراکہر تھا۔ غالباً دھند (Poor Visibility) کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ جس سرکاری جہاز پر یہ لوگ سفر کر رہے تھے اس کانام سپرکنگ (super king) تھا ۔ مگر فطرت کے مقابلہ میں نہ کوئی سپر ہے اور نہ کوئی کینگ۔ وزیر اعظم نرسمہاراؤ کے سامنے کانگریس پارٹی کے ایک شخص نے کہا کہ نرسمہا راؤ کو ابھی دس سال اور پرائم منسٹر کے عہدہ پر رہنا چاہیے۔ نرسمہاراؤ نے فوراً جواب دیا کہ یہ بہت بڑی بھول ہے کہ کسی کے لئے دس سال یا بیس سال کی اصطلاح میں سوچا جائے۔ دیکھئے پنجاب کے گورنر سریندر ناتھ کے ساتھ کیا ہوا :

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page