Kiran Bedi as the ideal police officer.
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۳۹
کتابیں لکھی ہیں۔ میں نے کئی انگریزی اور اردو کتابوں کے نام انہیں نوٹ کرائے۔ میں نے کہا کہ مسلم علماء اس نظریہ سے زیادہ اتفاق نہیں کرتے۔ البتہ غیر مسلم حضرات کو اس سے کافی دل چسپی ہے اور انھوں نے اس پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔
رشید طالب صاحب ایک کافی تجربہ کار صحافی ہیں۔ ایک ملاقات میں انھوں نے کہا کہ اوسط قاری کی پسند یا نا پسند اس اعتبار سے ہوتی ہے کہ کالم نگار اس کے اپنے خیالات کی تائید کرتا ہے یا تائید نہیں کرتا۔
The average reader approves or disapproves of a columnist depending on how far the columnist rationalises the reader’s prejudices. یہ صرف اخبار کے قاری کی بات نہیں ہے۔ یہی بیشتر انسانوں کی بات ہے۔ بیشتر لوگ صرف وہی باتیں سننا پسند کرتے ہیں جو ان کے مخصوص فکر کی تصدیق کرنے والی ہوں۔ اگرچہ اس مزاج کی یہ بھاری قیمت انھیں دینا پڑتا ہے کہ ان کا فکری ارتقاء رک جاتا ہے۔ مسٹر رشید طالب ایک لبرل مسلمان ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ اس کانفرنس میں شریک تھے۔ وہ اس خیال کے حامی ہیں کہ اسلام میں نظر ثانی کی ضرورت ہے تاکہ اس کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق کیا جاسکے۔ انھوں نے تسلیمہ نسرین کے خلاف قتل کے فتوے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بد دین کے خلاف اسلام کی مقرر کی ہوئی سزا کیا جدید معیار انصاف کے مطابق ہے : Is the Islamic punishment for apostasy fair by modern standards of justice? میں نے کہا کہ یہ بات آپ اس مفروضہ پر کر رہے ہیں کہ تسلیمہ نسرین کے قتل پر جو لوگ انعام کا اعلان کر رہے ہیں وہ اسلام کے نمائندہ ہیں۔ حالاں کہ وہ ہر گز اسلام کے نمائندہ نہیں۔ یہ تو کچھ بے علم لوگوں کا شور و غل ہے۔ اس سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔ آپ قرآن پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ مخالفوں کی اس قسم کی باتوں کا جواب دلیل سے دیا جا رہا ہے۔ یہی اسلام کا طریقہ ہے۔ پھر وہ کون سا جدید معیار ہے جس سے اسلام ٹکرا رہا ہے۔
۶ جولائی ۱۹۹۳ کو مسجد بابو گنج دیکھی۔ ۱۹۴۷ء میں یہ مسجد نا مکمل حالت میں تھی۔ تقسیم کے ہنگامہ میں یہاں کے مسلمان اس علاقہ کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اس لئے مسجد بھی نامکمل حالت میں پڑی رہی۔ حالات
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues