Kiran Bedi as the ideal police officer.
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۳۸
شریمتی گایتری رے (Gayatri Ray) اندرا گاندھی میموریل ٹرسٹ میں اسسٹنٹ سیکرٹری ہیں ۔ وہی اس کانفرنس کی آرگنائزرتھیں۔ جب میں شملہ پہنچا تو وہ بار بار مجھ سے کہتی تھیں کہ یہاں جو لوگ جمع ہوئے ہیں وہ سب آپ کو خصوصی طور پر سننا چاہتے ہیں۔ اس لئے آپ خوب کھل کر اپنے خیالات رکھیں۔ ۶ جولائی کی شام کو مجھے اس کا موقع ملا۔ میں نے تفصیل کے ساتھ موضوع پر روشنی ڈالی۔ موضوع تھا: پر امن دنیا کی طرف (Towards a non-violent world) شریتی گایتری رے نے اپنا ایک عجیب قصہ سنایا۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۷۱ میں جب بنگلہ دیش کی جنگ ہوئی، اس وقت ان کے شوہر ہندوستانی سفیر کی حیثیت سے ڈھاکہ میں مقیم تھے۔ پاکستانی فوج نے ان کو ہاؤس ارسٹ (خانہ قید) کر دیا۔ اتفاق سے انھیں دنوں وہ حاملہ تھیں۔ ڈاکٹری حساب کے مطابق، ۱۸ ستمبر کو ان کے یہاں ڈلیوری ہونے والی تھی۔ وہ بہت پریشان ہوئیں۔ انھوں نے پاکستانی حکام تک اپنی فریاد پہنچائی۔ مگر انھوں نے گھر سے نکل کر اسپتال جانے کی اجازت نہیں دی۔ البتہ ایک پاکستانی ڈاکٹر کو ان کی مدد کے لئے گھر پر بھیجا۔ لیکن انھوں نے پاکستانی ڈاکٹر کی مدد لینے سے انکار کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے کمرہ میں بیٹھ کر بھگوان سے خوب پرارتھنا کی کہ وہ ان کی ڈلیوری کوروک دے۔ ان کی دعا قبول ہوئی۔ اور ڈلیوری کی تاریخ ایک مہینہ کے لئے مؤخر ہوگئی۔ چنانچہ ان کی دہلی واپسی کے بعد ۲۱ اکتوبر ۱۹۷۱ کو ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ ٹینکل تحقیق کے مطابق، بچہ کی پیدائش ۲۸۰ دن میں ہو جانا ضروری ہے۔ مگر دعا نے اس کو ایک مہینہ تک کے لئے روک دیا۔ شاید یہی مطلب ہے اس حدیث کاکہ : لَا يَرُدُّ القدر إلا الدعاء (احمد)
یہاں جو وی آئی پی تھے وہ سب مجھ کو پہلے سے جانتے تھے۔ وہ اخباروں میں میرے مضامین پڑھے ہوئے تھے۔ ہر ایک بڑے شوق سے ملا۔ ہماچل پردیش کے گورنر مسٹر سریندر ناتھ نے کہا کہ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد میں مذہب پر کام کرنا چاہتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ تمام مذہبوں کی تعلیمات بنیادی طور پر ایک ہیں۔ میں اس کے بارہ میں مزید تفصیلی اسٹڈی کرنا چاہتا ہوں۔ آپ مجھے اس موضوع کی کتابیں بتائیے ۔ میں نے کہا کہ اس موضوع پر مسلمانوں نے بہت کم
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues