Al-Risala · March 1997 · page 41

Indians and dogs are not allowed.

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۴۱

Indians and dogs are not allowed.

اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ کتے کی عادت ہے کہ وہ گھاس کو اپنے پنجے سے کریدتا ہے۔ اسی طرح بوٹ پہن کر جانے سے لان کی گھاس خراب ہوتی تھی۔ چنانچہ وہ دونوں کو اندر جانے سے روکتے تھے۔ انگریز جو یہاں آتے تھے، وہ بوٹ پہن کر اس کے اندر نہیں جاتے تھے۔ ان کے پاس فوم جیسا چپل ہوتا تھا۔ وہ لان میں جاتے ہوئے یہی چپل پہن لیتے تھے۔ اس منظر کو پنڈت جی نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

ڈاکٹر جگدیش شرما شملہ ریڈیو کے پروگرام ایگزیکیوٹو ہیں۔ وہ ریڈیو کے لئے انٹرویو چاہتے تھے۔ چنانچہ طے ہوا کہ ۷ جولائی کو صبح ساڑھے آٹھ بجے وہ میرے ہوٹل پر آئیں گے۔ مگر مجھ کو بالو گنج کی مسجد میں دیر ہو گئی۔ ہوٹل کے ریسپشن میں ٹیلی فون کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ٹھیک وقت پر ہوٹل پہنچ چکے ہیں۔ جب ان کو بتایا گیا کہ اس وقت میں بالو گنج کی مسجد میں ہوں تو انھوں نے کہا کہ کوئی ہرج نہیں۔ میں وہیں آ جاتا ہوں۔ چنانچہ وہ ریکارڈنگ کے سامان کے ساتھ مسجد میں آگئے۔ یہاں انھوں نے تفصیلی انٹرو لیا (3471-77301 .Tel)

میں نے خاص طور پر اس پہلو پر زور دیا کہ سماجی اور قومی زندگی میں امن لانے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ تحمل اور رواداری کے ساتھ رہنا سیکھیں۔ تحمل اور رواداری فطرت کا ایک قانون ہے۔ اس کے بغیر ایک پر امن گھر بھی نہیں بنایا جا سکتا، کجا کہ اس کے بغیر کوئی پرامن سماج بنایا جا سکے۔

انگریزی روز نامہ ٹریبیون (The Tribune) کے پریس رپورٹر مسٹر سیلیش گر می نے ۶ جولائی ۱۹۹۴ کی شام کو انٹرو لیا (01886-32088 .Tel)

ایک سوال یہ تھا کہ شملہ کانفرنس کے بارہ میں آپ کا تاثر کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس طرح کی کانفرنس بجائے خود منزل نہیں ہوتی۔ یہ تو راستہ طے کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مفید کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس میں ٹاپ کے لوگ جمع ہوئے۔ انھوں نے اپنے علم اور تجربہ سے ایک دوسرے کو بہت کچھ دیا۔ خود میں نے یہاں کئی نئی باتیں سیکھیں۔ مجھے امید ہے کہ دو دن کا یہ اجتماع ملک کی تعمیر و ترقی کی طرف ایک مثبت قدم ثابت

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page