Indians and dogs are not allowed.
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۴۲
ہو سکتا ہے۔
مولانا ممتاز احمد قاسمی اور گلزار احمد بھارتی ڈپچیرمین حج کمیٹی، ہماچل پردیش، نے بتایا کہ ۱۹۹۰ء میں جب کہ ہماچل پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت تھی، اس کے کارکنوں نے ریاست میں بہت طوفان مچایا۔ انھوں نے مسلمانوں کے خلاف جگہ جگہ جلوس نکالے جس میں اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے۔ مثلاً، مندر تو ایک بہانہ ہے، مسلمانوں کو دور بھگانا ہے۔ ہماچل پردیش کی کل آبادی ۵۵ لاکھ ہے۔ اس میں تقریباً دو لاکھ مسلمان ہیں۔ ریاست کے مسلمان سخت گھبرا اٹھے۔ یہاں تک کہ ان کا خیال ہو گیا کہ ریاست کو چھوڑ کر چلے جائیں۔ مولانا ممتاز صاحب اور گلزار احمد صاحب ۴ اکتوبر ۱۹۹۰ کو راجہ ویر بھدر سنگھ سے اُن کی رہائش گاہ (شملہ) پر ملے۔ اب وہ چیف منسٹر ہیں۔ مگر اس وقت وہ صرف ایم ایل اے تھے۔ مولانا ممتاز صاحب نے بتایا کہ جب انھوں نے ہماچل پردیش کے مسلمانوں کی حالت بتائی اور کہا کہ شاید آپ کو وہ دن دیکھنا پڑے کہ ہماچل پردیش میں ایک مسلمان بھی باقی نہ رہے، تو ویر بھدر سنگھ رونے لگے۔ ان کی آواز رندھ گئی۔ انھوں نے کہا کہ تمام مسلمانوں کو شملہ میں میری کوٹھی پر لے آؤ۔ میں یہاں گیٹ پر بندوق لے کر کھڑا ہو جاؤں گا۔ پہلی گولی میرے سینہ پر لگے گی، اس کے بعد وہ کسی مسلمان تک پہنچے گی۔
راجہ ویر بھدر سنگھ نے اسی وقت خود اپنے ہاتھ سے ایک درخواست ٹائپ کی اور اس کو لے کر گورنر، ہماچل پردیش کے یہاں پہنچے۔ ان کی باتیں سُن کر گورنر نے اسی وقت چیف منسٹر کو بلایا۔ اور پھر طے ہوا کہ ریاست کے تمام ایم ایل اے اپنے اپنے حلقہ میں جائیں اور مسلمانوں کو ڈھارس دلائیں کہ تم لوگ بے ڈر ہو کر رہو۔ تمہارے خلاف کوئی اثر پسند کچھ بھی کرنے نہیں پائے گا۔ اس کے بعد حالات معتدل ہو گئے۔ یہاں تک کہ خود بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ٹوٹ گئی۔ نئے الیکشن میں راجہ ویر بھدر اسنگھ چیف منسٹر ہو گئے۔ حال ہی میں ان کی حکومت نے ریاست میں ایک سو اردو ٹیچر بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مولانا ممتاز احمد قاسمی نے بتایا کہ شملہ میں وشو ہندو پریشد کے بڑے پیمانہ پر ۲۲-۲۵ مئی ۱۹۹۲ کو ہوا۔ انھوں نے اس کے انعقاد میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ اس موقع کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues