Indians and dogs are not allowed.
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۴۳
استعمال کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ انھوں نے ایک جگہ لے کر وہاں اسلامی کتابوں کا اسٹال لگایا۔ ہندی اور انگریزی کتابیں دہلی سے لا کر یہاں رکھی گئیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہند و بہت کثرت سے ہمارے اسٹال پر آئے۔ انھوں نے دیکھا، باتیں کیں اور بہت سے ہندوؤں نے کتابیں خریدیں۔ آنے والوں میں سے ایک ہندو نے حسب ذیل تاثرات ہندی زبان میں لکھے :
اسلام کو اپنی آتما سے تو جانا تھا، سمجھا تھا۔ پرنتو اس کا اتہاس یا مکھیہ کتاب قرآن نہیں پڑھا تھا۔ آپ کی یہ پردرشنی بہت اچھی لگی۔ تنھاس سے بہت اپیوگی کتابیں ملیں۔ ایسی پردرشنی ہر جگہ، ہر شہر میں کبھی کبھی ایسے موقعوں پر لگتی رہنا چاہئے تاکہ ایک دوسرے کے دھرم کو اچھی طرح سمجھا جاسکے۔ گیان چند شرما، بال و کا س پر یوجنا ادھیکاری، گھاری، بلاسپور ۔
مولانا ممتاز صاحب ۱۹۶۳ سے شملہ میں مقیم ہیں۔ وشومیدہ یگیہ (۲۲ - (۲۲۔ ۲۶ مئی ۱۹۹۴) کے بارہ میں انھوں نے بتایا کہ وہ بہت کامیاب رہا۔ دوسری ہندی کتابوں کے علاوہ ۵۵ عدد ہندی ترجمہ قرآن لوگوں نے حاصل کئے یک اسٹال پر گیہ کے ایک بڑے مہاتما آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو تو آپ کا یہ اسلامی بک اسٹال بہت اچھا لگا۔ اب بتائیے کہ آپ کو ہمارا یہ یگیہ کیسا لگا۔ مولانا ممتاز صاحب نے کہا کہ ہم کو آپ کے یگیہ میں بہت بڑی کمی محسوس ہوائی۔ انہوں نے تعجب کے ساتھ پوچھا کہ وہ کیا۔ ۔۔ مولانا ممتاز صاحب نے کہا : جیسے ہم نے یہاں ہندی زبان میں اسلامی لٹریچر لا کر رکھا ہے اسی طرح آپ کو بھی اردو میں ہندو ازم پرلٹریچر یہاں رکھنا چاہئے تھا۔ سوامی جی اس جواب سے بہت متاثر ہوئے۔ اور کہا کہ آپ نے جو کہا پچ کہا۔
بالو گنج کی مسجد میں تین نمازیں پڑھیں ۔ مغرب ، عشاء اور فجر ۔ یہاں شام کو دیر تک نشست ہوئی جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے۔ یہ سلسلہ کئی گھنٹہ تک چلتا رہا۔ فجر کی نماز میں امام صاحب نے سورہ البروج پڑھی۔ اس میں یہ آیت تھی ... واللہ مِنْ وَرَائِهِمْ مُحيط فجر کے بعد میں نے اسی کو درس کا موضوع بنایا۔ میں نے کہا کہ اس سے معلوم ہو کہ اہل ایمان اس دنیا میں اکیلے نہیں ہیں۔ اللہ ان کے اور ان کے دشمنوں کے درمیان ہے۔ وہ دشمنانِ اسلام کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس میں ہمارے لئے بہت بڑی خوش خبری ہے۔ یہ آیت
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues