Al-Risala · March 1997 · page 45

Indians and dogs are not allowed.

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۴۵

اسٹیچولگا ہوا ہے۔ اس اسٹیچو میں ان کو اس طرح دکھایا گیا ہے کہ ان کا بایاں ہاتھ کمر سے اٹھا ہوا ہے، اور دایاں ہاتھ اس طرح اٹھارکھا ہے کہ ہاتھ کی ایک انگلی شہادت کی انگلی، اوپر آسمان کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

مولانا ممتاز صاحب نے بتایا کہ ایک بار میں اپنے ایک ہندو واقف کار کے ساتھ اس سڑک سے گزررہا تھا۔ ہم لوگ اس اسٹیچو کے سامنے پہنچے تو ہندو ساتھی نے کہا: ایک انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر لالہ جی کیا کہہ رہے ہیں۔ مولانا ممتاز صاحب نے جواب دیا: وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ ایک ہے۔ ہندو ساتھی نے یہ سنا تو ہنس کر بولا کہ یہاں بھی تم نے اپنے دھرم کی تبلیغ شروع کر دی ۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر اگر دعوتی ذہن ہو تو کس طرح وہ ہر موقع پر اپنی بات کہنے کے مواقع پاسکتا ہے۔

یہاں ایک مسلم خاتون (عائشہ) نے مخصوص حالات میں ایک ہندو ڈاکٹر کیڈارناتھ سے شادی کرلی۔ چند سال پہلے ہندو ڈاکٹر کا انتقال ہو گیا۔ اپریل ۱۹۹۴ میں تقریباً ۸۰ سال کی عمر میں مذکورہ مسلم خاتون کا انتقال ہو گیا۔ مرتے وقت خاتون نے وصیت کی کہ مجھ کو جلایا نہ جائے بلکہ مسلم طریقہ پر مجھ کو قبرستان میں دفن کیا جائے۔ خاتون کے داماد نے ایسا ہی کیا۔ مولانا ممتاز احمد قاسمی نے خاتون کے ہندو داماد سے کہا کہ آپ سوچئے کہ وہ عورت جس نے اپنی پوری زندگی آپ لوگوں کے ساتھ ہند و فیملی میں گزاری، پھر وہ کون سی طاقت تھی جو موت کے وقت اس سے یہ کہلوا رہی تھی کہ مجھ کو دفنایا جائے، مجھ کو جلایا نہ جائے ۔ یہ سن کر مذکورہ ہندو گہری سوچ میں پڑ گیا۔ اس نے مولانا ممتاز صاحب سے کہا کہ مجھ کو اسلامی لٹریچر دیجئے۔ میں اس کا مطالعہ کروں گا تاکہ اسلام کے بارہ میں واقفیت حاصل کروں۔

۷ جولائی کی صبح کو ہم لوگ شملہ کی جامع مسجد دیکھنے کے لئے نکلے۔ مختلف حصوں سے گزرتے ہوئے ساڑھے نو بجے ہم لوگ ایک گلی میں پہنچے جہاں ایک دروازہ پر جامع مسجد کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اندر داخل ہوئے تو بہت سے کشمیری مزدور بیٹھے ہوئے تھے۔ ان لوگوں کے لئے مسجد گویا مفت جائے قیام ہے۔ مسجد کے ذمہ دار بھی اس کو گوارا کئے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ اس طرح مسجد آباد رہتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page