Privitisation is no panacea
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۴۶
اگر کشمیری مزدور یہاں نہ ہوں تو مسجد میں سناٹا نظر آئے۔
جامع مسجد کے امام مولانا محمد عالم ندوی ہیں۔ مولاناندوی الرسالہ پڑھتے ہیں۔ ان سے دیر تک الرسالہ مشن کے بارے میں بات ہوئی۔ انہیں کچھ شکوک تھے۔ خدا کے فضل سے گفت گو کے بعد ان کے شکوک رفع ہو گئے۔
جامع مسجد کے دروازہ پر گھڑی کی ایک دکان نظر آئی۔ یہ محمد یٰسین کشمیری کی دکان تھی۔ تھی۔انھوں نے کہا کہ میں اپنے وطن واپس جانا چاہتا ہوں۔ مگر غالباً حالات کی بنا پر ابھی تک اس کا فیصلہ نہ کر سکے۔ چندی گڑھ کے انگریزی اخبار ٹریبیون (The Tribune) کے شمارہ ۷ جولائی میں ایک مضمون تھا اس کا عنوان تھا:
Privitisation is no panacea
اس میں بتایا گیا تھا کہ انڈیا میں اس وقت پبلک سیکٹر کے ۴۷۲ یونٹ ہیں۔ ان میں حکومت نے ۱۵۰ ہزار (150,000) کروڑ روپیہ لگایا ہے۔ مضمون میں پلک سیکٹر کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا تھا:
If the public sector failed in India, it was because of the command system imposed on it by politicians and the bureaucracy in their frantic search for power. انٹلیکچول کس طرح لوگوں کی سوچ کو بگڑتا ہے اس کی یہ ایک مثال ہے۔ یہ مضمون پبلک سیکٹر کو باقی رکھنے کی حمایت میں لکھا گیا ہے۔
روزگار میں لگی ہوئی خواتین کی سب سے بڑی تعداد پبلک سیکٹر میں ہے۔ اس طرح کے اور بھی بعض طبقات ہیں جن کا مفاد پبلک سیکٹر کو باقی رکھنے میں ہے۔ اس لئے پبلک سیکٹر کی حمایت میں برابر مضامین چھپوائے جا رہے ہیں۔ مذکورہ اقتباس میں ذہن کو خراب کیا گیا ہے۔ پبلک سیکٹر کی ناکامی کا سبب اقتصادی عمل سے محرک (incentive) کو ختم کر دینا ہے۔ مگر غیر متعلق طور پر اس کا ایک اور سبب نکال کر اس پر مضمون لکھا جارہا ہے۔
۷ جولائی کی دوپہر کو شملہ سے واپسی ہوئی۔ شملہ سے کالکا تک کا سفر بذریعہ کار طے کرنا تھا۔ میں اور ڈاکٹر چاری ایک گاڑی میں روانہ ہوئے۔ راستہ میں کچھ دیر کے لئے ہوٹل پائیں وڈ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues