Al-Risala · January 1997 · page 15

زکوٰۃ کا مسئلہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۱۵

تو ہمیں اس سے زکوٰۃ سمیت تمام مالی عطیات کو مراد لینا چاہئے۔

آیت میں کل آٹھ مدوں کا ذکر ہے مگر ان میں ایک فرق ہے۔ ابتدائی چار مدوں کا ذکر ل (لئے) کے حرف کے ساتھ ہے اور بعد کی چار مدوں کا ذکر فی (میں) کے حرف کے ساتھ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی ہم مدوں میں شخصی تملیک مراد ہے، یعنی انفرادی طور پر کسی کو دینا۔ اور بقیہ چار مدوں میں شخصی تملیک کے ساتھ اجتماعی مد بھی شامل ہے۔ مثلاً ابن السبیل (مسافر) کو شخصی طور پر بھی صدقات کی رقم دی جاسکتی ہے اور مسافر خانہ جیسی تعمیر میں بھی اس کو خرچ کیا جاسکتا ہے جس سے مسافروں کو فائدہ پہنچے۔

سبیل اللہ (اللہ کے راستہ) کی نوعیت متعین کرنے میں علماء کے درمیان اختلاف واقع ہوا ہے۔ علماء کی ایک تعداد کا کہنا ہے کہ اس میں بھی تملیک ضروری ہے۔ یعنی کسی فرد واحد ہی کو دیا جائے گا نہ کہ کسی اجتماعی مد میں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ انفرادی تملیک اور اجتماعی مد دونوں میں دینا جائز ہے۔ سبیل اللہ سے کیا مراد ہے، اس میں بھی علماء میں اختلاف ہوا ہے۔ ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ سبیل اللہ سے مراد صرف جہاد (بمعنی قتال) ہے ۔ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ نہیں ، اس میں تمام امور خیر شامل ہیں۔ مثلاً حج ، طلب علم ، وغیرہ (ملاحظہ ہو تفسیر کبیر امام رازی) آیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ سبیل اللہ کو جہاد (بمعنی قتال) سے مخصوص کرنا صرف استنباطی ہے ، وہ خود الفاظ قرآن سے براہ راست طور پر نہیں نکلتا۔ بعض احادیث کی بنیاد پر علماء کے ایک گروہ نے کہا ہے کہ سبیل اللہ کا تعلق صرف قتال سے نہیں ہے بلکہ وہ ایک عام حکم ہے۔

مثال کے طور پر صحیح البخاری (کتاب الدیات، باب القسامہ) کی ایک روایت پر گفتگو کرتے ہوئے ابن حجر العسقلانی نے لکھا ہے کہ بعض علماء نے اس کو ظاہر الفاظ پر محمول کیا ہے چنانچہ قاضی عیاض نے بعض علماء کی رائے نقل کی ہے کہ زکوۃ کی رقم کو مصالح عامہ میں خرچ کرنا جائز ہے۔ انھوں نے اپنی رائے کے حق میں اس حدیث سے اور کچھ دوسری حدیثوں سے استدلال کیا ہے۔ وقد حمله بعضهم على ظاهره - فحكى القاضي عياض عن بعض العلماء جواز صرف الزكاة في المصالح العامة واستدل بهذا الحديث وغيره (فتح الباري ۲۴۴/۱۲)

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page