Al-Risala · January 1997 · page 16

زکوٰۃ کا مسئلہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۱۶

مزید تفصیل کے لئے سورۃ التوبہ آیت ۴۰ کے تحت حسب ذیل تفسیروں میں دیکھا جاسکتا ہے: ۱۔ التفسیر الکبیر، الرازی م ۶۰۶ھ ۲۔ الجامع لاحکام القرآن، القرطبی م ۶۷۱ھ ۳۔ البحر المحیط، البوحیان م ۷۴۰ھ ۴۔ روح المعانی، آلوسی م ۱۲۴۰ھ قرآن وحدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سبیل اللہ کا لفظ سبیل دین کے معنیٰ میں ہے۔ نہ کہ سبیل قتال کے معنیٰ میں۔ اس میں ہر وہ دینی کام شامل ہے جس کے لئے مالی اعانت کی ضرورت ہو۔

جہاد کے معنی صرف کوشش کے ہیں نہ کہ قتال کے۔ چنانچہ ہر دینی کام کے لئے کوشش کرنا جہاد ہے۔ ۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بڑا جہاد دعوت دین میں کوشش کرنا ہے وجاهد هم به جہاداً كبيراً، اس لحاظ سے سبیل اللہ کی مد میں دعوت دین اور اشاعت اسلام کا کام خصوصی اہمیت کے ساتھ شامل ہوگا۔

اصل یہ ہے کہ دین کا اظہار ہر حال میں اور ہمیشہ مطلوب ہے۔ البتہ زمانہ کے حالات کے اعتبار سے اس کی ترجیحات میں فرق ہو سکتا ہے۔ مثلاً قدیم مکہ جیسے حالات ہوں تو سبیل اللہ سے مراد سب سے زیادہ دعوت اور اشاعت اسلام کا کام ہو گا ۔ اور اگر فریق ثانی کی عملی جارحیت کے نتیجہ میں دفاع کی ضرورت پیش آ جائے تو دفاع میں خرچ کرنے کی اہمیت وقتی اعتبار سے بڑھ جائے گی ۔ وغیرہ موجودہ زمانہ میں اسلام کو مختلف طاقتوں کی طرف سے چیلنج درپیش ہے۔ یہ چیلنج جنگی نہیں ہے بلکہ علمی ہے۔ آج اسلام کا سب سے بڑا دفاعی مسئلہ علم کے میدان میں پیش آرہا ہے۔ اس لئے اسلام کے علمی دفاع کے محاذ پر زکوٰۃ کی مدد سے خرچ کرنا دو گونہ اہمیت کا حامل ہے۔ ایک یہ کہ وہ دعوت اسلام کا کام ہے ، دوسرے یہ کہ وہ اسلام کا دفاعی کام بھی ہے۔ حدیث میں ہے کہ قیامت تک میری امت میں ایسا گروہ ہو گا جو جہاد کرتا رہے گا۔ اس کی تشریح امام بخاری نے یہ کی ہے کہ وہم اهل العلم (اور وہ اہل علم ہیں ) فتح الباری

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page