Al-Risala · April 1997 · page 22

اخلاق

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۷، صفحہ ۲۲

اخلاق

اخلاق سے مراد باہمی سلوک ہے۔ اخلاق اس برتاؤ کا نام ہے جو روزمرہ کی زندگی میں ایک آدمی دوسرے آدمی کے ساتھ کرتا ہے۔

اس اخلاق کا اصول کیا ہو۔ اس کا سادہ اصول یہ ہے کہ___ تم دوسروں کے لیے وہی چاہو جو تم اپنے لیے چاہتے ہو، تم دوسروں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرو جیسا برتاؤ تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔

ہر آدمی جانتا ہے کہ وہ میٹھے بول کو پسند کرتا ہے۔ اس لیے ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ دوسروں سے بولے تو میٹھے انداز میں بولے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ کوئی اس کی راہ میں کوئی پرابلم نہ کھڑا کرے، اس لیے ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ دوسروں کی راہ میں کوئی پرابلم کھڑا کرنے سے اپنے آپ کو بچائے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ دوسرے لوگ اس کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا معاملہ کریں۔ اس لیے ہر آدمی کو یہ کرنا چاہیے کہ جب بھی اس کا سابقہ دوسروں سے پڑے وہ ان سے ہمدردی اور تعاون کا معاملہ کرنے کی کوشش کرے۔

اخلاق کا یہ معیار انتہائی سادہ اور فطری ہے۔ یہ اتنا سادہ ہے کہ ہر آدمی اس کو جان سکتا ہے خواہ عالم ہو یا جاہل، حتیٰ کہ ایک اندھا یا معذور آدمی بھی نہایت آسانی کے ساتھ یہ سمجھ سکتا ہے کہ کیا چیز اس کے لیے پسندیدہ ہے اور کیا چیز ناپسندیدہ، اس حدیث نے انسانی اخلاق کا ایسا معیار دے دیا کہ جس کو سمجھنے سے کوئی شخص بھی عاجز نہیں ہو سکتا اس طرح اسلام نے ہر آدمی کو اس کے اپنے ذاتی تجربہ کی روشنی میں یہ بتا دیا کہ وہ لوگوں سے معاملہ کرنے میں کس قسم کا سلوک کرے اور کس قسم کا سلوک نہ کرے۔

حدیث میں ہے کہ لوگوں میں سب سے اچھا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔ اس کے مطابق اچھا انسان بننا کوئی پر اسرار معاملہ نہیں، اس کا سادہ فارمولہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو دوہرے معیار سے بچالے۔ ایسا کرنے کے بعد وہ اپنے آپ اعلیٰ انسانی اخلاق کا مالک بن جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1997 All issues

Printed page