Al-Risala · April 1997 · page 23

صبر

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۷، صفحہ ۲۳

صبر

صبر کا مطلب ہے رکنا، اپنے آپ کو تھامنا۔ انسان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اونچے آدرشوں کے مطابق دنیا میں زندگی گزارے۔ مگر دنیا میں قدم قدم پر ایسی ناپسندیدہ باتیں سامنے آتی ہیں جو آدمی کو بھٹکا دیں جو آدمی کے نشانہ کو اصل مقصد سے ہٹا کر دوسری طرف کر دیں۔ ایسی حالت میں آدمی اگر ایسا کرے کہ وہ ہر بھٹکنے والی بات پر بھڑک اٹھے، وہ ہر ناموافق چیز سے الجھ جائے تو وہ اپنے مقصد کی طرف اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ وہ غیر متعلق چیزوں میں الجھ کر رہ جائے گا۔

اس مسئلہ کا واحد حل صبر ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو جب کسی کڑوے تجربے سے سابقہ پیش آئے تو وہ بھڑک اٹھنے کے بجائے برداشت کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ جھٹکے کو سہتے ہوئے سچائی کے راستہ پر آگے بڑھ جائے۔

یہ صبر ایک طرف باہر کی دنیا میں پیش آنے والے مسائل کا عملی حل ہے۔ دوسری طرف وہ آدمی کے لیے اپنی شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ صبر نہ کرنے والے کی شخصیت منفی رجحانات کے کے درمیان پرورش پاتی ہے، اور جو آدمی صبر کر لے اس کی شخصیت مثبت رجحانات کے درمیان پرورش پانے لگتی ہے۔

صبر پسپائی نہیں ہے۔ صبر کا مطلب جوش والے راستہ کو چھوڑ کر ہوش والے راستہ کی طرف اقدام کرنا ہے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی نازک مواقع پر اپنے جذبات کو تھامے۔ وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے زیادہ مفید سمت میں اپنے عمل کا میدان تلاش کر لے۔

موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں ہر شخص کو لازماً خوش گوار باتوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ناقابلِ مشاہدہ مناظر اس کے سامنے آتے ہیں۔ اس کو ناقابلِ سماعت آوازیں سنی پڑتی ہیں۔ ایسی حالت میں الجھاؤ کا طریقہ اختیار کرنے کا نام بے صبری ہے اور اعراض کا طریقہ اختیار کرنے کا نام صبر۔ موجودہ دنیا میں کامیابی صرف ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو نا خوش گوار مواقع پر صبر کا طریقہ اختیار کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1997 All issues

Printed page