سفر نامه یورپ ۲
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۰
میں وہ محبت نہیں ہوتی۔ بلکہ سطحی کشش سے قریب ہو کر دونوں شادی کر لیتے ہیں۔ وغیرہ۔ میں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ مرد فطری طور پر غلبہ کا رجحان رکھتا ہے۔ شادی کے بعد ابتدائی کچھ دنوں تک اس کا یہ رجحان دبا رہتا ہے۔ مگر جلد ہی یہ رجحان ظاہر ہونے لگتا ہے ۔ اب شوہر چاہتا ہے کہ وہ گھر میں غالب ممبر کی حیثیت سے رہے۔ دوسری طرف عورت فیمنسٹ تحریکوں کے زیر اثر (نہ کہ فطرت کے زیر اثر عورت اور مرد کی مساوات (gender equality) کے نظریہ کے مطابق رہنا چاہتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ٹکراؤ شروع ہوتا ہے جو بالآخر تفریق اور طلاق پر ختم ہوتا ہے۔ انہوں نے میرے نقطۂ نظر سے کامل اتفاق کیا۔ پھر میں نے کہا کہ اس سلسلہ میں دوسری قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ شادی سے پہلے جب ایک نوجوان کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے تو ابتدائی تاثر کے تحت وہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ میرے لئے پرفیکٹ عورت ہے۔ مگر اس دنیا میں کوئی چیز پرفیکٹ نہیں۔ اور اسی طرح کوئی عورت (یا مرد) بھی پرفیکٹ نہیں۔ جلد ہی مرد کے اوپر یہ حقیقت کھل جاتی ہے۔ اب وہ اپنی پسندیدہ خاتون کو کم تر سمجھ کر اس سے بے رغبت ہونے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے سے دور
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues