سفر نامه یورپ ۲
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۱
ہوجاتے ہیں۔
اس مسئلہ کا حل طلاق یا دوسرا نکاح نہیں ہے۔ بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ آپ یہ جانیں کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز آئیڈیل یا پرفیکٹ نہیں۔ یہاں ہر معاملہ میں ہمیں غیر آئیڈیل یا غیر پرفیکٹ کے ساتھ ایڈجسٹ کرتے ہوئے زندگی گزارنا ہے۔ گویا کامیاب زندگی کا راز ایڈجسٹمنٹ میں ہے نہ کہ ناکام طور پر کامل کو تلاش کرنے میں جو کبھی ملنے والا نہیں۔ انھوں نے میری اس بات سے بھی مکمل اتفاق کیا۔
۲۲ اکتوبر کو ظہر کی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو مروجہ نیت کے بجائے یہ الفاظ میری زبان پر آگئے: یا اللہ میں تجھ سے امید رکھتا ہوں کہ جب میں مرکز آخرت کی دنیا میں پہنچوں تو میرے بارہ میں تو کہہ دے کہ یہ میرا بندہ ہے جو میرے لئے سجدہ کر کے اور میرے لئے رکوع کر کے یہاں آیا ہے۔
نماز کے بعد اپنے ساتھی کے ہمراہ شہر کی بڑی مناسٹری میں پہنچا۔ یہاں کے وسیع ہال میں انسانوں کا ہجوم تھا۔ لوگ کھانے کی میز پر بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ اس غیر معمولی ہجوم کو دیکھ کر خیال آیا کہ جب اتنے سارے لوگ امن کے خواہش مند ہیں تو دنیا میں امن قائم کیوں نہیں ہوتا۔ دل نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں ہی نہیں جو دنیا میں بد امنی پھیلائے ہوئے ہیں۔ گویا امن پسند لوگ آپس میں امن کی باتیں کر رہے ہیں۔
اس طرح کی تمام کانفرنسیں، خواہ وہ ملکی ہوں یا بین الاقوامی وہ سب نوپر ابلم انسانوں کے اجتماع کے ہم معنی ہوتی ہیں۔ ہماری دنیا کے جو پرابلم انسان ہیں وہ یہاں آتے ہی نہیں۔ پھر امن کی باتوں کا کوئی عملی نتیجہ نکلے تو کیوں کر نکلے۔ اسی احساس کے تحت پچھلے چند سال سے میں پرابلم انسانوں کے اپنے اجتماعات میں جانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اور ان کی اپنی بھیڑ میں جاکر انھیں امن کا پیغام دے رہا ہوں۔ مگر جو لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے وہ مجھ پر عجیب عجیب الزامات عائد کرتے ہیں۔
یہاں ایک نوجوان نے مجھ سے نصیحت لکھنے کے لئے کہا۔ میں نے اس کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھ دئے _ حقیقت پسند بنو اور کامیابی تمہارے لئے یقینی ہو جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues