جہاد
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۷، صفحہ ۴۸
جہاد
جہاد کے معنی کوشش کے ہیں۔ دین کی راہ میں کسی بھی سچی کوشش کو جہاد کہا جائے گا۔ آدمی کا نفس اس کو برائی کی طرف لے جانا چاہتا ہے ۔ اس وقت اپنے نفس سے لڑ کر برائی سے رکنے کا نام جہاد ہے ۔ دوست ، ساتھی ، سماجی دباؤ کوئی ایسا کام کرانا چاہتے ہیں جو حقیقت کے اعتبار سے صحیح نہیں ، اس وقت لوگوں کے دباؤ کو قبول نہ کرنا اور اپنے درست رویہ پر جے رہنا جہاد ہے ۔
لوگوں کو اچھی بات بتانا اور انھیں بری باتوں سے روکنا ایک مشقت والا عمل ہے۔ مگر مشقتوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنی دعوتی مہم کو جاری رکھنا جہاد ہے ۔
پڑوسیوں یا تعلق والوں کی طرف سے کوئی کڑوی بات سننے کو ملے یا کسی قسم کا تلخ تجربہ ہو اور آدمی کے اندر اس کی وجہ سے اشتعال آجاٹے، مگر وہ اپنے آپ کو جوابی عمل سے روکے اور ایک طرفہ طور پر لوگوں کے ساتھ خوش گوار تعلقات برقرار رکھے تو یہ ایک جہاد ہوگا ۔ جہاد کی ایک اور قسم ہے جس کا دوسرا نام قتال ہے۔ یعنی اللہ کے حکموں کی پیروی کرتے ہوئے دشمن سے لڑنا۔ یہ جہاد جارحیت کے مقابلہ میں اپنے بچاؤ کے لیے ہوتا ہے ۔ جہاد کا لفظی مطلب جنگ نہیں ہے۔ مگر خدا کے حکموں کی پیروی میں اپنے بچاؤ کے لیے لڑنا بھی ایک کوشش کا معاملہ ہے، اس لیے اس کو بھی جہاد کہا جاتا ہے ۔
لڑائی والا جہاد ایک وقتی اور اتفاقی معاملہ ہے۔ اگر کبھی واقعہ بچاؤ کی ضرورت پیش آجائے تو اس وقت اس نوعیت کا جہاد کیا جائے گا۔ اور اگر اس قسم کی شدید ضرورت پیش نہ آئے تو جنگی جہاد عملاً رکا رہے گا۔
کسی عمل کا نام جہاد رکھنے سے وہ عمل جہاد نہیں ہو جائے گا۔ جہاد صرف وہ عمل ہے جو اسلام کے مطابق جہاد ہو۔ اور اسلامی جہاد اصلا پرامن جد و جہد کا نام ہے۔ یہ پر امن جد و جہد کبھی داخلی اعتبار سے مطلوب ہوتی ہے اور کبھی خارجی اعتبار سے، کبھی وہ احساسات کی سطح پر جاری ہوتی ہے اور - کبھی ظاہری اعضا کی سطح پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1997 All issues