خدا کو پکارنا
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۷، صفحہ ۴۹
خدا کو پکارنا
دعا کا مطلب ہے پکارنا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ اپنی حاجات کے لیے یا اپنی بندگی کے اظہار کے لیے خدا کو پکارے۔ یہ پکار بذات خود ایک عبادت ہے۔
خدا ایک زندہ اور مستقل وجود ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور یہ طاقت رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے اور جس نہج پر چاہے واقعات کا کورس مقرر کرے ۔
خدا کے بارے میں یہی یقین آدمی کے اندر دعا کا جذبہ ابھارتا ہے۔ جب آدمی کو خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو فطری طور پر اس کے اندر یہ جذبہ بھی ابھر آتا ہے کہ وہ اپنی حاجات کے لیے خدا کو پکارے وہ اس سے دنیا اور آخرت کی سعادتیں مانگے ۔ وہ اس کو اپنا کارساز بنالے۔ دعا کا نہ کوئی وقت مقرر ہے اور نہ کوئی طریقہ اور نہ اس کی کوئی علاحدہ زبان ہے۔ آدمی ہرلحظہ، ہر صورت سے اور ہر زبان میں خدا سے دعا کر سکتا ہے۔ اگر دعا سچے دل سے نکلی ہے تو ضرور وہ خدا تک پہنچے گی ۔ بندہ اس کو فوراً سنے گا اور اس کے مطابق اس کی قبولیت کا فیصلہ فرمائے گا۔ کچھ دعائیں وہ ہیں جو مختلف عبادتوں کے ساتھ دہرائی جاتی ہیں۔ مگر یہ زیادہ دعائیں وہ ہیں جو کسی دوسرے عمل سے جڑی ہوئی نہیں ہیں۔ مثلاً آدمی رات کو سونے کے لیے بستر پر جاتا ہے تو اس کی زبان پر رات کی مناسبت سے کچھ دعائیں آجاتی ہیں۔ اسی طرح جب وہ صبح کو سو کر اٹھتا ہے تو وہ نئے دن کے بہتر آغاز کے لیے دعا کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح جب وہ کسی سے ملتا ہے یا کھاتا پیتا ہے یا سواری پر بیٹھتا ہے یا سفر پر ہوتا ہے ، یا اپنے معاشئی مشاغل میں مصروف ہوتا ہے۔ یا اور کسی حالت میں ہوتا ہے تو اس کی مناسبت سے اس کی زبان سے ایسی دعائیں نکلتی ہیں جن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا یا تو اس معاملہ میں میرے ساتھ بہتری کا فیصلہ فرما دے۔
دعا کا مطلب خدا سے مانگنا ہے۔ اور خدا سے مانگنا کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ ہر حال میں مسلسل جاری رہتا ہے ۔ دعا اپنے رب کے ساتھ کبھی نہ ختم ہونے والے قلبی تعلق کا اظہار ہے۔ مومن کی زندگی کا کوئی لمحہ دعا سے خالی نہیں ہو سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1997 All issues