دعائیں
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۷، صفحہ ۵۰
دعائیں
اسلام میں جو باتیں سکھائی گئی ہیں ان میں سے ایک دعا ہے۔ حدیث کی کتابوں میں کثرت سے دعائیں نقل کی گئی ہیں۔ یہ دعائیں بتاتی ہیں کہ مختلف مواقع پر ایک مومن کی زبان سے کس طرح کے دعائیہ کلمات اور احساسات ظاہر ہونے چاہئیں۔
مثلاً ایک آدمی کی ملاقات دوسرے آدمی سے ہو تو چاہیے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہیں ۔ یعنی یہ کہ تمہارے اوپر اللہ کی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔ اسی طرح مومن کو چاہیے کہ جب وہ کھانا کھائے تو وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر اپنا کھانا کھائے اور جب وہ کھانے کو ختم کرے تو الحمد للہ اور اسی طرح کے دوسرے کلمات اپنی زبان سے ادا کرے۔ گویا کہ ایک مومن اپنے کھانے پینے کا آغاز اللہ کا نام لے کر کرتا ہے اور جب وہ اپنا کھانا پینا ختم کرتا ہے تو دوبارہ وہ اللہ کا شکر ادا کر کے اس کی نعمتوں کا اعتراف کرتا ہے۔
ایک مومن کے دل میں جب کوئی برا خیال آتا ہے تو وہ اس کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہے اور یہ کلمہ اپنی زبان سے ادا کرتا ہے : اللهم انی اعوذ بک من الشیطان الرجیم ۔ وہ جب کسی مسئلہ سے دوچار ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ : اللهم علیک تو کلنا یعنی اے اللہ ہم نے تیرے اوپر بھروسہ کیا۔ اسی طرح جب اس کو مال کا کوئی حصہ ملتا ہے تو وہ کہتا ہے : اللهم بارک لنا فی اموالنا یعنی اے اللہ ہمارے مالوں میں ہمیں برکت عطا فرما۔ ایک مومن جب سفر کرتا ہے تو اس کی زبان پر یہ کلمات ہوتے ہیں : اللهم انت الصاحب فی السفر وانت الخلیفۃ فی الاهل یعنی اے اللہ تو اس سفر میں میرا ساتھی ہے اور تو ہی میرے بعد میرے گھر والوں کا نگہبان ہے۔
جب اس کو کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو وہ کہتا ہے : انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ یعنی ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہمیں لوٹ کر اللہ ہی کی طرف جانا ہے۔ اسی طرح زندگی کے ہر موڑ اور ہر مرحلہ کے لیے اسلام میں دعائیں بتائی گئی ہیں۔ یہ دعائیں ہر موقع پر مومن کے ایمان کو تازہ کرتی ہیں۔ وہ موجودہ دنیا میں اس کے ہر تجربہ کو ربانی تجربہ بناتی رہتی ہیں۔ مومن اسی طرح ذکر اور دعا کے سایہ میں زندگی گزارتا ہے یہاں تک کہ وہ مر کر اپنے رب سے جا ملتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1997 All issues