حقیقتِ اسلام
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۵
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے فکری انحرافات میں یہ سب سے بڑا انحراف ہے جو اسلام کے نام پر اٹھنے والی انقلابی تحریکوں کی صورت میں ظا ہوا ہے ۔ موجودہ زمانہ کے فکری انحرافات میں یہ سب سے بڑا انحراف ہے۔ ان تحریکوں کے علم بردار اپنے خیال کے مطابق ، اسلام کی جامع تشریح پیش کرتے ہیں۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ اسلام کی صرف ناقص تشریح کر رہے ہیں۔ اس ناقص تشریح نے موجودہ زمانہ میں اسلام کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان اسلام کی پوری تاریخ میں کسی اور چیز نے نہیں پہنچایا۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے۔
" انسان صرف ایک جسمانی ڈھانچہ نہیں ہے ، وہ ایک مکمل سماجی اور معاشی اور سیاسی وجود ہے " ــــــــ یہ جملہ بظاہر ہر انسان کی شخصیت کا جامع بیان ہے۔ مگر حقیقت میں وہ اس کو محدود کرنے والا ہے۔ وہ اس ناقص طرزِ فکر کا نتیجہ ہے جس کو علم النفس کی اصطلاح میں دو قسمی طرزِ فکر (dichotomous thinking) کہا جاتا ہے۔ یعنی چیزوں کو بلیک اینڈ وائٹ میں لینا ۔ دو کے سوا کسی تیسری حقیقت سے بے خبر رہنا۔
بظاہر یہ ایک جامع یا تکمیلی بیان ہے۔ مگر اس میں انسانی شخصیت کا تیسرا اہم ترین حصہ چھوٹ گیا ہے ، اور وہ اس کا داخلی وجود ہے۔ انسان کا ذہن ، اس کی کیفیات ، اس کے جذبات جو انسان کی عظیم تر اندرونی ہستی کی تشکیل کرتے ہیں ، وہ انسانیت کی اس تشریح میں سرے سے غیر مذکور ہو کر رہ گئے ہیں ۔
ٹھیک یہی معاملہ اسلام کی نام نہاد انقلابی تشریح کا بھی ہے۔ اس کے علم برداروں کا کہنا ہے کہ اسلام صرف ایک محدود مذہب نہیں ہے ، وہ ایک مکمل سیاسی اور معاشی اور معاشرتی نظام (politico-socio-economic system) ہے۔ مگر یہ بظاہر جامع تشریح اسلام کی انتہائی ناقص تشریح ہے۔ اس تشریح میں دوبارہ اسلام کا وہ اہم ترین پہلو حذف ہو گیا ہے جو اس کا اصل پہلو ہے ، یعنی اسلام کار بانی اور احسانی پہلو۔
اسلام جب ایک انسان کی ہستی میں داخل ہوتا ہے تو اس کے بعد جو سب سے بڑا واقعہ رونما ہوتا ہے وہ یہ کہ اس کی شخصیت ایک نئی دریافت کا تجربہ کرتی ہے۔ یہ خدائے عظیم