حقیقتِ اسلام
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۶
کی معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں اس کی داخلی دنیا میں ایک ناقابل بیان قسم کا روحانی بھونچال آجاتا ہے۔ خدا کی آتشیں یاد اس کے سینہ میں سمندری طوفان سے بھی زیادہ بڑا طوفان برپا کر دیتی ہے۔ وہ ایک ایسی لامحدود دنیا میں جینے لگتا ہے جو سیاسی اور حکومتی وسعتوں سے بہت زیادہ وسیع ہے۔
ایسے انسان کے اندر تخلیقی صلاحیت اپنی اعلیٰ ترین صورت میں ابھر آتی ہے۔ وہ زندگی کی ادنی سطح سے اوپر اٹھ کر زندگی کی اعلیٰ سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ محدود مادی دنیا سے آگے جاکر وہ لامحدود اخروی دنیا کا تجربہ کرنے لگتا ہے۔ عام انسانی ذہن کے اگر چند دریچے کھلتے ہیں تو اس کے ذہن کے تمام دریچے کھل جاتے ہیں۔ وہ برتر حقیقت کی لامحدود فضا میں پرواز کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
ایسا انسان گویا خدا کو دیکھنے لگتا ہے۔ وہ خدا کی قربت کا آسمانی تجربہ کرتا ہے۔ خدا کے ساتھ اس کی سرگوشیاں ہونے لگتی ہیں۔ نورانی فرشتے قطار در قطار اس کے اوپر نازل ہوتے ہیں۔ ہر واقعہ اس کے لیے ایمانی خوراک فراہم کرتا ہے، ہر مشاہدہ اس کے ایمان میں اضافہ کا سبب بن جاتا ہے۔
یہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے جو بظاہر مادی دنیا میں ہوتا ہے مگر اپنی نفسیات کے اعتبار سے وہ عالم روحانی میں جینے لگتا ہے۔ اس کی روح ایک لطیف ربانی غسل میں نہا کر ایک برتر روح بن جاتی ہے۔ وہ مسلسل تزکیہ کے مراحل طے کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن کے الفاظ میں، وہ النفس المطمئنہ کے درجہ کو پا لیتا ہے۔ وہ اپنی داخلی صفات کے اعتبار سے ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جو خدا کے پڑوس میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ جس کے لیے ابدی جنتوں کے دروازے ابدی طور پر اس طرح کھول دیے جائیں کہ کوئی بھی دروازہ اس کے لیے بند نہ رہے۔