خود اعتمادی
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۹
خود اعتمادی
۱۹۶۵ میں ساؤتھ کوریا نے اسٹیل فیکٹری کا ایک منصوبہ بنایا۔ اس کے لیے انہیں ورلڈ بینک کے قرض کی ضرورت تھی۔ انھوں نے اس کی درخواست بھیجی۔ اس کے بعد حسبِ قاعدہ بینک کے ماہرین کی ایک پارٹی کوریا گئی تاکہ وہ بر سر موقع حالات کا مطالعہ کرے ۔ اس پارٹی نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد یہ رپورٹ دی کہ کوریا کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ منصوبہ قابلِ عمل (feasible) نہیں ہے، چنانچہ ورلڈ بینک نے کوریا کو اس مقصد کے لیے قرض دینے سے انکار کر دیا۔ مگر ساؤتھ کوریا کے لوگوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انھوں نے دوسرے ذرائع تلاش کیے اور کسی نہ کسی طرح اپنی فیکٹری قائم کردی۔ ۲۰ سال بعد کوریا کی یہ فیکٹری دنیا کی دوسری سب سے بڑی اسٹیل فیکٹری بن چکی تھی۔ ورلڈ بینک کا ایک ایکسپرٹ دوبارہ کوریا آیا تاکہ وہ قائم شدہ فیکٹری کو دیکھے۔ اس نے قریب سے فیکٹری کا معائنہ کرنے کے بعد دوبارہ لکھا کہ ۲۰ سال پہلے ہم نے جو بات کہی وہ بجائے خود صحیح تھی۔ مگر ہم اپنے جائزہ میں ایک چیز کو شامل نہ کر سکے تھے، وہ یہ کہ کوریا کے لوگ خود اعتمادی (self-confidence) کا لامحدود ذخیرہ اپنے پاس رکھتے ہیں۔
خود اعتمادی خدا کی دی ہوئی ایک صفت ہے ۔ وہ ہر ایک کو یکساں طور پر ملتی ہے۔ البتہ کچھ لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس خدا داد صفت کو استعمال کرنے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً کوریا کے لوگ بینک کے انکار کے بعد اگر یہ کہنا شروع کرتے کہ بینک والے متعصب ہیں۔ وہ ہماری ترقی نہیں چاہتے۔ وہ ہم کو اقتصادی پس ماندگی میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں۔ تو ان کی خود اعتمادی کی صفت دب کر رہ جاتی۔ ان کا ذہن عمل کے رخ پر چلنے کے بجائے شکایت اور احتجاج کے رخ پر چل پڑتا۔ اور جب وہ ایسا کرتے تو ان کے اندر خود اعتمادی والے جذبات ابھرنے سے رہ جاتے۔ یہ خدا داد صفت ان کے اندر چھپی ہوئی موجود رہتی مگر وہ اس کے عملی استعمال سے محروم رہتے۔ کوریا کی فضا شکایتی الفاظ سے بھر جاتی مگر وہاں کوئی اسٹیل فیکٹری کام کرتی ہوئی نظر نہ آتی۔ خدا نے انسان کو ہر قسم کی اعلیٰ صلاحیتیں وافر مقدار میں عطا کی ہیں۔ مگر ان کو استعمال کرنا صرف انہیں بلند حوصلہ لوگوں کے لیے مقدر ہے جو مثبت طرز فکر کے حامل ہوں، جو منفی طرز فکر سے آخری حد تک پاک ہوں ۔