Al-Risala · May 1997 · page 8

عالمی اسلامی اتحاد

الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۸

عالمی اسلامی اتحاد

کوئی شخص عالمی انسانی اتحاد کی بات کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ "انسانیت" کے نام پر ایک مرکزی حکومت قائم کی جائے اور ساری دنیا کے انسانوں کو طاقت کے زور پر اس کا تابع بنایا جائے۔ عالمی انسانی اتحاد انسانی قدروں کی بنیاد پر مطلوب ہے نہ کہ سیاسی اقتدار کی بنیاد پر۔ یہی معاملہ اسلام کا ہے۔ اسلام میں بلا شبہ یہ مطلوب ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں میں اتحاد ہو۔ حج کا عالمی اجتماع اسی کی ایک علامت ہے۔ مگر عالمی اسلامی اتحاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کی ایک مرکزی حکومت قائم ہو، اور تمام دنیا کے مسلمان اس حکومت (یا خلافت) کے تحت سیاسی طور پر متحد ہو جائیں ۔ عالمی اسلامی اتحاد بلا شبہ ایک مطلوب چیز ہے مگر عالمی اسلامی حکومت یا عالمی اسلامی خلافت محض ایک نعرہ ہے جو نہ ممکن ہے اور نہ مطلوب۔ اسلام میں اصل اہمیت کی چیز خدا کی سچی معرفت ہے اور یہ کہ آدمی خدا کی مرضی کے مطابق دنیا میں جیے۔ ہر ایک خدا کے رنگ میں رنگا ہوا ہو۔ ہر انسان اپنی پسند اور نا پسند کو خدا کی پسند اور ناپسند کے تابع بنالے۔

اسلامی اتحاد یہ ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک خدا کو اپنا الٰہ سمجھیں ۔ وہ محمد رسول اللہ کو پیغمبر اور خاتم النبیین مانتے ہوں ۔ سب یکساں طور پر قرآن کے اوپر ایمان رکھتے ہوں ۔ سب کے دلوں میں یہ یقین زندہ ہو کہ موجودہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے ، اور آخرت کی اگلی دنیا اپنے عمل کا انجام پانے کی جگہ۔

اسی طرح ساری دنیا کے مسلمانوں میں وہی اخلاق و کردار ہو جو قرآن وسنت میں بتایا گیا ہے۔ حتیٰ کہ ایک شخص جب کسی مسلمان سے ملے تو وہ پیشگی طور پر یقین کر سکے کہ وہ اپنی عادت اور اپنے سلوک اور اپنے کردار کے اعتبار سے فلاں قسم کا انسان ہو گا۔

عالمی اسلامی اتحاد کی بنیاد فکری اور روحانی یکسانیت ہے نہ کہ عالمی نوعیت کا کوئی سیاسی اور حکومتی ڈھانچہ ۔ اسلامی اتحاد اسلامی افراد کے آزادانہ فیصلہ سے قائم ہوتا ہے۔ وہ سیاسی اقتدار کے زور پر نافذ نہیں کیا جاتا اور نہ نافذ کیا جا سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1997 All issues

Printed page