Al-Risala · May 1997 · page 12

عصری تقاضے

الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۲

عصری تقاضے

عثمانی خلیفہ عبد الحمید ثانی کا زمانہ حکومت ۱۸۷۶ء سے ۱۹۰۹ء تک ہے۔ اس نے ترکی میں ریفارم لانے کی کوشش کی۔ اس نے تعلیمی اصلاحات کا نفاذ کیا۔ تا ہم بعض اسباب سے ملک میں اس کی شدید مخالفت ہوئی اور اس کو تخت سے معزول کر دیا گیا۔

قدیم زمانہ میں ترکی اپنے عظیم بحری بیڑے کے لیے مشہور تھا۔ مگر جب یورپ میں بھاپ کی طاقت دریافت ہو گئی اور بحری جہازوں کو اسٹیم انجن کے ذریعہ چلانے کا دور آیا تو ترکی اس میدان میں بہت پیچھے ہو گیا۔ مزید یہ کہ اس کا پچھڑا پن اس نوبت کو پہنچا کہ نئے طرز کی دخانی کشتیوں کو حاصل کرنا اور ان کو استعمال کرنا بھی ایک خطر ناک فعل سمجھا جانے لگا۔

سلطان عبد الحمید ثانی پہلا شخص تھا جس نے بھاپ کی طاقت سے چلنے والا بحری بیڑہ (اسطول) تیار کرایا۔ کہا جاتا ہے کہ جب دخانی کشتیاں تیار ہو گئیں تو اس کے بعد وقت کے ترک علماء نے اصرار کیا کہ اس کو استعمال کرنے سے پہلے اس پر بخاری شریف کا ختم ہونا چاہیے۔ اس کے بغیر کشتیوں کو سمندروں میں داخل کرنا ان کے نزدیک مخدوش تھا۔ علماء کا اصرار جب بہت بڑھا تو بعض ترک افسروں نے ان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بحری بیڑا بخار (بھاپ) سے چلتا ہے نہ کہ بخاری سے (إِنَّ الْأُسْطُولَ يَسيرُ بِالْبُخارِ لَا بِالْبُخاری)

بحری بیڑہ جیسے معاملات میں علماء کا دخل دینا بجائے خود جائز نہ تھا۔ مگر علماء کو جاننا چاہیے تھا کہ اس کے لیے انھیں سب سے پہلے جدید تقاضوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھنا ہو گا۔ جدید دور کو سمجھے بغیر جدید معاملات میں دخل دینا ایک جرم ہے نہ کہ کوئی رہنمائی۔ مگر بد قسمتی سے موجودہ زمانہ کے علماء نے ہر جگہ یہی نادانی کی ہے۔ ترکی سے لے کر عرب تک اور ہند سے لے کر روس تک ہر جگہ اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

موجودہ زمانہ کے علماء نے دورِ جدید کا کوئی مطالعہ نہیں کیا۔ وہ عصری تقاضوں سے بالکل بے خبر تھے۔ ایسی حالت میں ان پر فرض تھا کہ وہ مسجد اور مدرسہ کے دائرہ میں اپنے آپ کو محدود رکھیں ۔ مگر وہ اپنی حد پر نہیں رکے۔ ان کی نادانی کی چھلانگوں نے موجودہ زمانہ میں ملت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1997 All issues

Printed page