Al-Risala · May 1997 · page 13

تصورِ مذہب

الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۳

تصورِ مذہب

مذہب کیا ہے ۔ مذہب زندگی کا روحانی طریقہ ہے۔ یہ اپنے اندر کی دنیا کو دریافت کرنا ہے، وہ دنیا جہاں خدا اور بندے سے ملاقات ہوتی ہے۔ جہاں فرشتوں کی مجلسیں قائم ہوتی ہیں۔ جہاں عالمِ بالا کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

مذہبی انسان باہر سے گزر کر اندر کی طرف دیکھتا ہے۔ وہ مادی رونقوں سے گزر کر روحانی رونقوں کو دیکھنے لگتا ہے۔ وہ دنیا کے جلوؤں سے ہٹ کر آخرت کے جلوؤں کو دیکھنے لگتا ہے۔ غیر مذہبی انسان محدود دنیا میں جیتا ہے۔ لیکن مذہبی انسان اپنے جینے کے لیے ایک ایسی دنیا پالیتا ہے جس کی وسعتیں کبھی ختم نہ ہوں۔ غیر مذہبی انسان زندگی کی سطح پر جیتا ہے اور مذہبی انسان زندگی کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے۔

غیر مذہبی انسان شور کی آوازوں کو سمجھتا ہے، مذہبی انسان خاموش آوازوں کو سننے لگتا ہے۔ غیر مذہبی انسان خود پرست ہوتا ہے اور مذہبی انسان خدا پرست۔

غیر مذہبی انسان دنیا میں کانٹے کی طرح جیتا ہے، اور مذہبی انسان پھول کی طرح۔ غیر مذہبی انسان اگر تاریکی ہے تو مذہبی انسان روشنی۔ غیر مذہبی انسان اگر گرمی پھیلانے والا ہے تو مذہبی انسان ٹھنڈک بکھیرنے والا۔

جو فرق حیوان اور انسان میں ہے وہی فرق غیر مذہبی انسان اور مذہبی انسان میں ہے۔ غیر مذہبی انسان ناقابل پیشین گوئی کردار کی صفت رکھتا ہے اور مذہبی انسان مکمل طور پر قابل پیشین گوئی کردار کا حامل ہوتا ہے۔

غیر مذہبی انسان خود ساختہ راہوں میں چلتا ہے اور مذہبی انسان فطرت کی شاہراہ پر رواں دواں ہوتا ہے۔ غیر مذہبی انسان اس کائنات کا غیر مطلوب انسان ہے اور مذہبی انسان اس کائنات کا مطلوب انسان۔

سچا مذہبی انسان موجودہ دنیا میں بھی کامیابی حاصل کرتا ہے اور موت کے بعد آنے والی زندگی میں بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1997 All issues

Printed page