Be realist and ensure your success
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۳
تقریر کی جس سے شاہ بہت خوش ہوئے۔
کیسی عجیب بات ہے کہ جس زمانہ میں ہمارے ملک کے ہندومسلم کلچر سے اتنا زیادہ قریب تھے، اسی زمانہ میں کچھ نام نہاد مسلم رہنماؤں کو مسئلہ ملت کے حل کی یہ الٹی تدبیر سوجھی کہ ہندوؤں سے کٹ کر اپنا علیحدہ ملک بنائیں اور ہندوؤں کو ہمیشہ کے لئے اسلام اور مسلمانوں سے دور کردیں۔
سوڈان کے مسلمان اپنے سر پر سفید عمامہ باندھتے ہیں۔ مجھے یہ عمامہ پسند آیا۔ ان کا عمامہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ میں نے چھوٹا عمامہ استعمال کرنا شروع کیا۔ کانفرنس میں سوڈان کے شیخ اسحاق سکوتہ بھی شریک تھے۔ ان کو یہ انداز پسند آیا۔ اور انھوں نے اپنی طرف سے ایک سفید عمامہ مجھے بطور ہدیہ پیش کیا۔ اس کو لیتے ہوئے میں نے کہا: **هذه جيدة مباركة وسوف تكون لى شرفاً وكرامة** سوڈان کے لوگ سیاہ فام ہوتے ہیں۔ مگر ان کا قومی لباس سفید پگڑی ہے۔ بارہویں صدی عیسوی میں جب عرب اس علاقے میں داخل ہوئے تو اس کو انھوں نے بلاد السودان (سیاہ فام لوگوں کا ملک) کہا۔ اسی سے اس ملک کا نام سوڈان یا سوڈان پڑ گیا۔ سوڈان براعظم افریقہ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ تاہم جنوبی سوڈان میں عیسائی کافی تعداد میں آباد ہیں۔
سوڈان میں اسلام کے تیزی کے ساتھ پھیلنے کا سبب یہ تھا کہ کئی غیر مسلم راجاؤں نے اسلام قبول کرلیا۔ مثلاًکنبورو او رزا کا سی وغیرہ۔ پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے افریقہ میں اسلام کی اشاعت کے تحت لکھا ہے کہ اس زمانہ کی تبلیغی سرگرمیوں سے زیادہ تیزی کے ساتھ مسلم آبادی میں اضافہ ہوتا، اگر وہ مہلک قسم کی باہمی لڑائیاں نہ ہوتیں جن میں ایک مسلم حکومت دوسری مسلم حکومت کی تباہی کا سبب بن گئی:
the propagandist activities... would have contributed to the more rapid growth of a Muhammadan population, had it not been for the internecine wars that caused one Muhammadan state to work the destruction of another. (The Preaching of Islam, p. 324)
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues