Al-Risala · January 1997 · page 24

Be realist and ensure your success

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۴

یہاں کئی بدھسٹ آئے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ بدھسٹ سے بات ہوئی۔ گفت گو کے دوران انھوں نے کہا کہ سچائی کی دریافت کا آخری درجہ سکون ہے۔ جب آدمی سچائی کو دریافت کرتا ہے تو اس کو کامل ذہنی سکون حاصل ہو جاتا ہے۔ یہی سکون وہ چیز ہے جس کو دوسرے مذاہب میں جنت کہا گیا ہے۔

میں نے کہا کہ ذہنی سکون کا تعلق دریافت حقیقت سے نہیں ہے بلکہ اس بات سے ہے کہ آدمی نے کیا دریافت کیا ہے۔ مثلاً ایک ایسا نظریہ جس میں حساب و کتاب (accountability) کا کوئی تصور نہ ہو۔ جس میں موت کو خاتمہ کے ہم معنی سمجھا گیا ہو۔ ایسے نظریہ کی دریافت آدمی کے اندر ذہنی سکون لاسکتی ہے۔ مگر ایسا مذہب جس میں یہ مانا گیا ہو کہ مرنے کے بعد انسان کے قول و عمل کا حساب لیا جائے گا ، وہ کبھی وہ چیز نہیں دے سکتا جس کو آپ ذہنی سکون کہہ رہے ہیں۔ کیوں کہ حساب کا تصور اس کو مستقل طور پر اس احساس کے تحت بے چین رکھے گا کہ معلوم نہیں آخرت کی جانچ میں میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ میں نے کہا کہ کسی نظریہ کو آپ اس بنا پر برحق نہیں کہہ سکتے کہ وہ آدمی کو ذہنی سکون دے رہا ہے۔ صداقت کو جانچنے کا یہ معیار درست نہیں۔ اس کے بجائے یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ نظریہ بجائے خود معقول ہے یا نہیں۔ میں نے کہا کہ تمام متعلق حقائق یہ بتاتے ہیں کہ موت پر خاتمہ کا نظریہ درست نہیں ہو سکتا۔ اور نہ اس کا کوئی ثبوت ہے کہ زندگی ایک دور مسلسل کا نام ہے۔ یعنی جینا پھر مرنا ، پھر جینا پھر مرنا۔ یہ صرف ایک مفروضہ ہے نہ کہ کوئی ثابت شدہ حقیقت۔

اس کے برعکس موت کے بعد سزا و جزا کا نظریہ انتہائی معقول ہے۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی کوئی توجیہ اس کے سوا نہیں بنتی کہ یہ مانا جائے کہ آخر کار ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب کہ ظالم کو سزا ملے اور حق پرست کو انعام دیا جائے۔ ایک اطالوی نوجوان سے بات ہو رہی تھی۔ میں نے مثبت سوچ کے بارہ میں کچھ باتیں بتائیں۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ پھر میں نے کہا کہ اپنی زندگی کے بارہ میں میرا اصول مختصر طور پر یہ ہے۔ سادہ زندگی، اونچی سوچ (simple living, high thinking) پھر میں نے کہا

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page