In the end, I would like to add
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۶
فورا کانفرنس کے ذمہ داران (ڈاکٹر بار لنگے، پروفیسر کرار وغیرہ) اسٹیج کے پاس آگئے ۔ اور کہنے لگے کہ اتنا مختصر کیوں۔ ہم تو آپ کی تقریر تفصیل کے ساتھ سننا چاہتے تھے۔ میں نے کہا کہ اس کا جواب یہ خاتون دیں گی ۔ خاتون نے بتایا کہ مجھے سیشن کو مقرر وقت پر ختم کرنا تھا اور دوسرے مقررین کی لمبی تقریروں کی وجہ سے مزید وقت باقی نہیں تھا۔
اس سیشن کے فورا بعد دوسرا سیشن تھا جو جین دھرم کے لیے خاص کیا گیا تھا۔ منتظمین نے فوری طور پر پروگرام میں تبدیلی کرتے ہوئے مجھے اگلے سیشن میں بولنے کا موقع دیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ دوبارہ تیس منٹ تک اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ چنانچہ میں نے اس کے فورا بعد اپنے مقررموضوع اسلام میں فلسفہ امن پر اپنی تقریر شروع کی ۔ اس تبدیلی کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ حاضرین کی تعداد کافی بڑھ گئی ، کیوں کہ جین مذہب کو سننے کے لیے مزید کافی لوگ وہاں آگئے تھے۔ اس کانفرنس میں بیرونی ملکوں (یورپ ، امریکہ وغیرہ) کے لوگ بھی موجود تھے چنانچہ اس کی تمام کارروائی مکمل طور پر انگریزی میں ہو رہی تھی ۔ میں نے بھی اپنی تقریر انگریزی میں کی۔ آخر میں پہنچ کر جب میں نے کہا کہ :
In the end, I would like to add
فورا آپرو فیسر کرار جو کہ کانفرنس کے منتظم اعلیٰ تھے اٹھ کر میرے پاس آئے اور کہا کہ دس منٹ اور، چنانچہ میں مزید دس منٹ تک بولا ۔ اس طرح میری تقریر چالیس منٹ تک جاری رہی ۔ پروگرام کے بعد کئی دن تک لوگ مجھ سے ملتے رہے اور یہ کہتے رہے کہ آپ کی تقریر بہت پسند آئی ۔ اس میں بہت زیادہ وضوح (clarity) تھا۔ آپ کی ہر بات دل میں اترتی جا رہی تھی۔ ایک ہندو پروفیسر نے کہا کہ آپ ہی کی تقریر پورے کانفرنس کا حاصل تھی۔ پروفیسر کرار نے کئی بار لوگوں کے سامنے کہا " مولانا صاحب کی آواز میں اللہ بولتا ہے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے کئی بار کہا کہ مجھے آپ کی آواز بہت پسند ہے۔ مجھے آپ کی آواز میں کیسٹ چاہیے ۔
ایک ڈیلی گیٹ نے اپنی پوری تقریر میں مذاہب کے اتحاد پر زور دیا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کہا کہ تمام مذاہب سچے ہیں اور سب یکساں حیثیت رکھتے ہیں :