Al-Risala · May 1997 · page 27

Truth is One; Wise speak of it in many ways.

الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۷

میں نے کانفرنس کے بعض افراد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات بظاہر خوب صورت معلوم ہوتی ہے مگر اس کی کوئی عملی معنویت نہیں۔ دوسرے معاملات میں سچائی صرف ایک ہوتی ہے۔ پھر مذہب کے معاملہ میں ایسا کیوں کر ممکن ہے کہ ہر چیز سچی ہو جائے۔ صداقت بلاشبہ ایک ہے۔ البتہ سماجی زندگی کے نظام کو بحسن وخوبی چلانے کے لیے ہر ایک کو دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔

ایک صاحب نے اپنے مقالہ میں کہا کہ ویدوں کا یہ کہنا ہے کہ سچائی ایک ہے، مگر اہل دانش اس کو مختلف طریقہ سے بیان کرتے ہیں :

Truth is One; Wise speak of it in many ways.

یہ بات عام طور پر اس طرح دہرائی جاتی ہے جیسے کہ وہ سائنٹفک فیکٹ کی طرح کوئی ثابت شدہ چیز ہو۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں دو سوالات بہت بنیادی ہیں جن کا جواب ابھی نہیں دیا گیا ہے۔

۱۔ کہنے والے کا استناد (authenticity) کیا ہے ۔

۲۔ جب کہنے والا آج زندہ موجود نہیں ہے بلکہ اس کے نام سے صرف کچھ کتابیں موجود ہیں تو سوال یہ ہے کہ ان کتابوں کی تاریخی اعتباريت (historical credibility) کیا ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے ابھی تک ان دونوں سوالوں کا کوئی معتبر جواب نہیں دیا گیا ہے۔ اور جب تک ان دونوں سوالوں کا معتبر جواب نہ دیا جائے مذکورہ بیان کی صداقت غیر ثابت شدہ رہے گی۔

یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں ایک سادھو تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے اپنے خاص انداز میں کہا : یہ دونوں آنکھیں تو کیمرہ ہیں باہر دیکھنے کے لیے۔ بہتر کو تو آنکھیں بند کرکے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ بات مجھے پسند آئی۔ یہ صحیح ہے کہ آنکھیں صرف بیرونی چیزوں ہی کو دیکھ پاتی ہیں۔ اندر چھپی ہوئی حقیقتوں کو دیکھنے کے لیے بصیرت درکار ہے نہ کہ صرف بصارت۔ تاہم یہ بات مطلق معنوں میں صحیح نہیں۔ کیونکہ آنکھ سے دیکھی ہوئی چیزوں کی حیثیت ڈاٹا (data) کی ہے۔ آنکھیں گویا باہر سے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1997 All issues

Printed page