قیامت میں
الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۸
قیامت میں
قرآن کی سورہ نمبر ۶ میں ارشاد ہوا ہے اے جنوں اور انسانوں کے گروہ کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آئے جو تم کو میری آیتیں سناتے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے۔ وہ کہیں گے ہم خود اپنے خلاف گواہ ہیں۔ اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں رکھا۔ اور وہ اپنے خلاف خود گواہی دیں گے کہ بے شک ہم منکر تھے۔ یہ اس وجہ سے کہ تمہارا رب بستیوں کو ان کے ظلم پر اس حال میں ہلاک کرنے والا نہیں کہ وہاں کے لوگ بے خبر ہوں (الانہعام ۱۳۲ - ۱۳۱)
شیطان جب آدمی کو خوشنما تر غیبات کے ذریعہ اپنی طرف لے جاتا ہے تو وہ اپنے اس چیلنج کو صحیح ثابت کرنا چاہتا ہے جو اس نے آغاز تخلیق میں خدا کو دیا تھا کہ میں تیری مخلوق کے بڑے حصہ کو اپنا ہمنوا بنالوں گا (بنی اسرائیل ۶۱) اسی طرح جو لوگ اپنے آپ کو شیطان کے حوالے کرتے ہیں، ان کے سامنے بھی واضح مفادات ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ جنوں کے نام پر اپنے سحر کے کاروبار کو فروغ دیتے ہیں۔ یا اپنی شاعری اور کہانت کا رشتہ کسی جنتی استاد سے جوڑ کر عوام کے اوپر اپنی برتری قائم کرتے ہیں۔ قیامت میں جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا تو یہ بات کھل جائے گی کہ جو لوگ بے راہ ہوئے یا جنھوں نے دوسروں کو بے راہ کیا انھوں نے کسی غلط فہمی کی بنا پر ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ حق کو نظر انداز کرنا تھا نہ کہ حق سے بے خبر رہنا۔ وہ دنیوی رونقوں سے اوپر نہ اٹھ سکے۔ وہ وقتی فائدوں کو قربان نہ کر سکے۔ ورنہ خدا نے اپنے خاص بندوں کے ذریعہ جو ہدایت کھولی تھی وہ اتنی واضح تھی کہ کوئی شخص حقیقت حال سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا۔ مگر ان کی دنیا پرستی ان کی آنکھوں کا پردہ بن گئی۔ جاننے کے باوجود انھوں نے نہ جانا۔ سننے کے باوجود انھوں نے نہ سنا۔
آخرت میں وہ مصنوعی سہارے ان سے چھن جائیں گے جن کے بل پر وہ حقیقت سے بے پروا بے ہوئے تھے۔ اس وقت ان کو نظرآجائے گا کہ کس طرح ایسا ہوا کہ حق ان کے سامنے آیا مگر انھوں نے جھوٹے الفاظ بول کر اس کو رد کر دیا۔ کس طرح ان کی غلطی ان پر واضح کی گئی۔ مگر خوب صورت تاویل کر کے انھوں نے سمجھا کہ اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے میں وہ کامیاب ہو گئے ہیں۔
خدا کے یہاں بھول کی معافی ہے مگر خدا کے یہاں سرکشی کی کوئی معافی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues