Al-Risala · June 1997 · page 9

انسان کی جانچ

الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۹

انسان کی جانچ

قرآن کی سورہ نمبرے میں ارشاد ہوا ہے کہ (اے لوگو) ہم نے تم کو پیدا کیا، پھر ہم نے تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ پس انھوں نے سجدہ کیا، مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ خدا نے کہا کہ تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا۔ ابلیس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھ کو آگ سے بنایا ہے اور آدم کو مٹی سے۔ خدا نے کہا کہ تو اتر یہاں سے۔ تجھے یہ حق نہیں کہ تو اس میں گھمنڈ کرے پس نکل جا، یقیناً تو ذلیل ہے۔ ابلیس نے کہا کہ اس دن تک کے لیے تو مجھ کو مہلت دے جب کہ سب لوگ اٹھائے جائیں گے۔ خدا نے کہا کہ تجھ کو مہلت دی گئی۔ ابلیس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی لوگوں کے لیے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا، پھر ان پر آؤں گا، ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے۔ اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے۔ اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔ خدا نے کہا نکل یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا ۔ جو کوئی ان میں سے تیری راہ پر چلے گا تو میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا (الاعراف ۱۱ - ۱۸)

امتحان کی اس دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ کبھی کوئی شخص دولت و عزت میں دوسرے سے زیادہ حصہ پا لیتا ہے۔ کبھی دو آدمیوں کے درمیان ایسا معاملہ پڑتا ہے کہ ایک شخص کے لیے دوسرے کو اس کا جائز حق دینا اپنے کو نیچے گرانا معلوم ہوتا ہے۔ کبھی کسی شخص کی زبان سے خدا ایک سچائی کا اعلان کراتا ہے اور وہ ان لوگوں کو اپنے سے برتر دکھائی دینے لگتا ہے جو اس سچائی تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔ ایسے مواقع پر شیطان آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جگا دیتا ہے۔ ”میں بہتر ہوں“ کے جذبے سے مغلوب ہو کر وہ اپنے بھائی کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی خدا کی نظر میں شیطان کے راستے پر چلنا ہے۔ جس شخص نے ایسے مواقع پر حسد اور گھمنڈ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس نے گویا کہ شیطان کی پیروی کی۔ اور جس نے ایسے مواقع پر شیطان کے پیدا کیے ہوئے جذبات کو اپنے اندر کچل ڈالا۔ اس نے صراط مستقیم کو پکڑ لیا جو اسے جنت تک پہنچا دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues

Printed page