آنے والا وقت
الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۱۱
آنے والا وقت
قرآن کی سورہ نمبر میں ارشاد ہوا ہے اور ہر قوم کے لیے ایک مقررہ مدت ہے۔ پھر جب ان کی مدت آجایے گی تو وہ نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ اے بنی آدم، اگر تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول آئیں جو تم کو میری آیات سنائیں تو جو شخص ڈرا اور جس نے اصلاح کرلی ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غم گین ہوں گے۔ اور جو لوگ میری آیات کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں وہی لوگ دوزخ والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے یا اس کی نشانیوں کو جھٹلائے۔ ان کے نصیب کا جو حصہ لکھا ہوا ہے وہ انھیں مل کر رہے گا۔ یہاں تک کر جب ہمارے بھیجے ہوئے ان کی جان لینے کے لیے ان کے پاس پہنچیں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے تھے کہاں ہیں۔ وہ کہیں گے کہ وہ سب ہم سے کھوئےگئے۔ اور وہ اپنے اوپر اقرار کریں گے کہ بیشک وہ انکار کرنے والے تھے (الاعراف ، ۳۴-۳۶) انسان کے لیے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہو تو اس کے اوپر گو یا خدا کی حجت پوری ہو گئی۔ اس کے بعد بھی اگر وہ اس حق کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو وہ یقیناً کبر کی وجہ سے ایسا کر رہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے لیے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کہ اس کے مقابلہ میں اپنے کو چھوٹا بنا نے پر راضی کرلے۔ ایسے آدمی کے لیے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی انجام نہیں۔
انسان جب بھی حق کا انکار کرتا ہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتا ہے۔ کسی کو دولت و اقتدار کا اعتماد ہوتا ہے۔ کوئی اپنی عزت و مقبولیت پر بھروسہ کیے ہوئے ہوتا ہے۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہے۔ قیامت کے دن جب یہ بے بنیاد سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگرچہ اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے لیے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues