Al-Risala · June 1997 · page 12

اصلاحی رویہ

الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۱۲

اصلاحی رویہ

قرآن کی سورہ نمبر، میں ارشاد ہوا ہے کہ تم لوگ زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد برپا نہ کرو (الاعراف ۵۶)

زمین کی اصلاح سے مراد اللہ کا وہ نظام ہے جو انسان کے سوا بقیہ دنیا میں قائم ہے۔ انسان کو خدا کے اس قائم کردہ نظام سے مطابقت کر کے رہنا ہے۔ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے خلاف روش اختیار کرے۔

زمین کو خدا نے خاموش عمل کی دنیا بنایا ہے۔ اس لیے یہاں شور و غل نہ مچاؤ۔ یہاں خدا نے صاف ہوا میں سانس لینے کا انتظام کیا ہے تم اپنی کثافت سے خدا کی ہوا کو خراب نہ کرو۔ نباتات اور حیوانات اپنے اپنے دائرہ میں کام کرتے ہیں ، تم بھی اپنے دائرہ میں کام کرو، دوسرے کے دائرہ میں مداخلت نہ کرو۔ یہاں سارا کام حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے، تم بھی ایسا ہی کرو اور جذباتیت یا جلد بازی کا رویہ نہ اختیار کرو۔

اس دنیا کی تمام چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کر کے اپنا اپنا کام کر رہی ہیں تم بھی دوسروں سے ہم آہنگی کر کے زمین پر زندگی گزارو۔ اس دنیا میں ہر چیز دوسرے کے لیے نفع بخش بنی ہوئی ہے۔ تم بھی اپنے دوسرے بھائیوں کے لیے نفع بخشی کی حد تک خیر خواہ بن جاؤ۔ زمین کی اصلاح خدا کی طرف سے ہو چکی ہے۔ انسان کو اس کی اصلاح نہیں کرنا ہے۔ انسان کو صرف اس اصلاحی نقشہ کی پیروی کرنا ہے۔ اصلاح شدہ زمین کی طرح اس کو بھی اپنے معاشرہ کو اصلاح یافتہ بنا لینا ہے۔ خدا کی زمین پر انسان کے لیے دو ممکن رویے ہیں ۔ اصلاحی رویہ اور مفسدانہ رویہ ۔ اصلاحی رویہ یہ ہے کہ انسان شعوری طور پر اس درست نظام کی پیروی کرے جس کی پیروی بقیہ کائنات غیر شعوری طور پر کر رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں مفسدانہ رویہ یہ ہے کہ آدمی کائناتی نظام سے منحرف ہو جائے۔ وہ کائنات میں خدا کے قائم کردہ نظام اصلاح کو چھوڑ کر کوئی خود ساختہ رویہ اختیار کر لے۔ خدا کی اصلاح یافتہ زمین انسانی رہائش کے لیے بہترین جگہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ انسانی عمل کے لیے بہترین نمونہ بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues

Printed page