Al-Risala · June 1997 · page 18

ذہنی خول

الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۱۸

ذہنی خول

قرآن کی سورہ نمبر ، میں ارشاد ہوا ہے کہ - آدمی پر جب ہم انعام کرتے ہیں تو وہ اعراض کرتا ہے ۔ اور پیٹھ موڑ لیتا ہے ۔ اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ نا امید ہو جاتا ہے ۔ کہو کہ ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے ۔ اب تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستہ پر ہے (بنی اسرائیل ۸۴ - ۸۳)

ہر انسان پر یہ کیفیت گزرتی ہے کہ جب اس کو راحت اور فراوانی حاصل ہوتی ہے تو وہ بر خود غلط نفسیات کا شکار ہو جاتا ہے ۔ کسی بات کو ماننے کے لیے وہ اتنا کڑا بن جاتا ہے جیسے کہ وہ ایسا لوہا ہے جو جھکنا نہیں جانتا ۔ مگر جب اس کے اسباب چھن جاتے ہیں اور اس کو عجز کا تجربہ ہوتا ہے تو اچانک وہ بے ہمت ہو جاتا ہے اور مایوسی سے نڈھال ہو جاتا ہے ۔

موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنے بارہ میں اس تجربہ سے گزرتا ہے ۔ مگر ایسے لوگ کم ہیں جو اس تجربہ کے درمیان اپنی حقیقت کو دریافت کر لیں ۔ وہ یہ سوچیں کہ دنیا میں جب کہ انہیں آزادی حاصل ہے وہ حق کے مقابلے میں اتنی سرکشی دکھا رہے ہیں مگر اس وقت ان کا کیا حال ہو گا جبکہ قیامت آئے گی ۔ اور ان سے ان کا سارا اختیار چھین لے گی ۔ انسان کتنا زیادہ کمزور ہے مگر وہ کتنا زیادہ اپنے کو طاقتور سمجھتا ہے ۔

شاکلہ سے مراد ذہنی سانچہ ہے ۔ ہر آدمی کے حالات اور رجحانات کے تحت دھیرے دھیرے اس کا ایک خاص ذہنی سانچہ بن جاتا ہے ۔ وہ اسی کے زیر اثر سوچتا ہے ۔ اور اسی کے مطابق اس کا نقطۂ نظر بنتا ہے ۔ مگر صحیح نقطۂ نظر وہ ہے جو علم الہی کے مطابق صحیح ہو اور غلط وہ ہے جو علم الہی کے مطابق غلط ہو ۔

یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہے ۔ آدمی کو یہ کرنا ہے کہ اس کے شاکلہ نے جو اس کا ذہنی خول بنا دیا ہے ۔ وہ اس خول کو توڑے تاکہ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسی کہ وہ ہیں ۔ بالفاظ دیگر وہ چیزوں کو ربانی نگاہ سے دیکھنے لگے ۔ جو لوگ اپنے ذہنی خول میں گم ہوں ، وہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے ذہنی خول سے نکل کر خدائی نقطہ نظر کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت پائی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues

Printed page