امتحان
الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۱۹
امتحان
قرآن کی سورہ نمبر ۲۰ میں ارشاد ہوا ہے ــــ اور ہم نے آدم کو اس سے پہلے حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس کہ اس نے انکار کیا۔ پھر ہم نے کہا کہ اے آدم، یہ بلا شبہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو کہیں وہ تم دونوں کو جنت سے نکلوانہ دے پھر تم محروم ہو کر رہ جاؤ (طه ، ۱۱۵-۱۱۴)
خدا کے حکم پر قائم رہنے کے لیے مضبوط ارادہ انتہائی طور پر ضروری ہے۔ آدمی اگر غیر متعلق چیزوں سے متاثر ہو جایا کرے تو وہ یقیناً خدا کے راستہ سے ہٹ جائے گا۔ خدا کے راستہ پر قائم رہنے کے لیے صرف خدا کے حکم کو جاننا کافی نہیں، بلکہ یہ عزم بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ آدمی حکم خداوندی کے خلاف باتوں سے مزاحمت کرے اور ان کو اپنے اوپر اثر انداز نہ ہونے دے۔
خدا نے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو فرشتے فوراً سجدہ میں گر گئے۔ مگر شیطان نے سجدہ نہیں کیا۔ اس فرق کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فرشتوں نے اس معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھا۔ اس کے برعکس ابلیس نے اس کو انسان کا معاملہ سمجھا۔ جب معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھا جائے تو آدمی کے لیے ایک ہی ممکن صورت ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ وہ اس کی اطاعت کرے۔ مگر جب معاملہ کو انسان کا معاملہ سمجھ لیا جائے تو آدمی یہ کرے گا کہ وہ سامنے کے انسان کو دیکھے گا۔ اگر وہ اس سے طاقت ور ہے تو وہ جھک جائے گا اور اگر وہ اس سے طاقتور نہیں ہے تو وہ جھکنے سے انکار کر دے گا، خواہ حق کا واضح تقاضا یہی ہو کہ وہ اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دے۔
آدم اور ابلیس کی یہ کہانی ہر انسان کی زندگی میں بار بار دہرائی جا رہی ہے۔ ہر آدمی کی زندگی میں یہ صورت پیش آتی ہے کہ زندگی کی سرگرمیوں میں اس کا سابقہ کسی صاحب حق انسان سے پڑتا ہے، یہ حق خواہ لین دین کی صورت میں ہو یا ایک سچی بات کی صورت میں۔ ہر ایسے موقع پر آدمی دوبارہ اسی امتحان میں کھڑا ہو جاتا ہے جو انسان اول کے ساتھ پیش آیا تھا۔ ایسے موقع پر جو آدمی حق کے آگے جھک جائے وہ گویا خدا کے آگے جھکا اور جو آدمی حق کے آگے نہ جھکے اس نے گویا شیطان کی پیروی کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues