Al-Risala · June 1997 · page 24

عہد فطرت

الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۲۴

عہد فطرت

قرآن کی سورہ نمبر ۳۶ میں ارشاد ہوا ہے ؀ اور اے مجرمو، آج تم الگ ہو جاؤ۔ اے اولادِ آدم، کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کر دی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا بے شک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ اور یہ کہ تم میری ہی عبادت کرنا، یہی سیدھا راستہ ہے اور اس نے تم میں سے ایک کثیر گروہ کو گمراہ کر دیا۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے۔ یہ ہے جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ اب اپنے کفر کے بدلے میں اس میں داخل ہو جاؤ۔ آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے جو کچھ یہ لوگ کرتے تھے (یس ۶۵-۵۹)

موجودہ زندگی میں اچھے لوگ اور برے لوگ ایک ہی دنیا میں رہتے ہیں۔ اگلی زندگی میں دونوں کی دنیا ئیں الگ الگ کر دی جائیں گی۔ شیطان کے بندے شیطان کے ساتھ اور رحمن کے بندے رحمن کے ساتھ۔

کوئی آدمی شیطان کے نام پر شیطان کی پرستش نہیں کرتا۔ مگر بالواسطہ طور پر غیر اللہ کا ہر پرستار در اصل شیطان کا پرستار ہے۔ کیونکہ وہ شیطان ہی کی تزئین کے تحت ایسا کر رہا ہے مثلاً فرشتوں اور قومی بزرگوں کی پرستش اس طرح شروع ہوئی کہ شیطان نے ان کے بارے میں بے اصل عقیدے لوگوں کے ذہن میں ڈالے اور لوگ ان شیطانی ترغیبات سے متاثر ہو کر ان کی پرستش کرنے لگے۔ جدید تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ انسان کی کھال ایک قسم کا ریکار ڈ ہے جس پر آدمی کی بولی ہوئی آوازیں مرتسم ہو جاتی ہیں اور ان کو دہرایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک نشانی ہے جو اس بات کو قابل فہم بنا رہی ہے کہ کس طرح آخرت میں آدمی کے ہاتھ اور پاؤں آدمی کے احوال سنانے لگیں گے۔ ہر انسان کی فطرت یا اس کے لاشعور میں خدا کا تصور پیدائشی طور پر موجود ہے۔ ہر انسان پیدائشی طور پر یہ مزاج رکھتا ہے کہ وہ خدا کو اپنا بڑا مان کر اس کے آگے جھک جائے۔ یہ گویا عہد فطرت ہے اور تمام انسان اس عہد فطری کے ذریعہ اپنے خدا سے بندھے ہوئے ہیں۔ انسان جب اس فطری رہنمائی کو کام میں لا کر خدا کی فرماں برداری کے راستہ پر چلتا ہے تو وہ خدا کی مقرر کی ہوئی صراط مستقیم کا مسافر بن جاتا ہے جو اس کو ابدی سعادت کی منزل تک پہنچا دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues

Printed page